برطانیہ میں اجرت میں اضافے کے تنازعہ اور حکومت کے ساتھ کام کے حالات پر احتجاج کرنے والے جنرل پریکٹیشنرز نے پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ کیا۔
اس سال تیسری بار ہڑتال کرنے والے ہزاروں جنرل پریکٹیشنرز نے پارلیمنٹ سکوائر میں منعقدہ ایک جلسےمیں اپنے مطالبات کا اظہار کیا۔
ڈاکٹروں نے وزیراعظم آفس نمبر 10 واقع ہونے والی ڈاؤننگ سٹریٹ کے داخلی دروازے سے اپنا مارچ شروع کیا اور پارلیمنٹ سکوائر میں لگائے گئے اسٹیج پر نکتہ پذیرکیا۔
معالجین نے : "ڈاکٹرز کے نہ جانے کے لیے بہتر تنخواہ”، "قوتِ خرید کم پڑنے والی تنخواہ ڈاکٹروں کونقل مکانی کرنےپر مجبور کر رہی ہے”، "14 پونڈ فی گھنٹہ منصفانہ نہیں” اور "زندگی بچانے والے اچھی تنخواہ کے مستحق ہیں” تحریروں پر مبنی پین کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
برطانیہ میں جنرل پریکٹیشنرز، یہ کہتے ہوئے کہ انہیں تقریباً 15 سالوں سے افراط زر سےکم سطح پر اضافہ دیا گیا ہے، تنخواہوں میں 35 فیصد کا اضافہ مانگ رہے ہیں ۔
مظاہرین مزید ڈاکٹروں کو ملازمت دے کر کام کی شرائط اور اوقات کار میں تبدیلیوں کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں، تو حکومت ملک میں افراط زر کی شرح 8 فیصد سے کم سطح پر ان کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز پیش کر رہی ہے۔