ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

یگنر کے بانی یووگنیف پریگوژن کی روسی فوجیوں کے خلاف جوابی کاروائی

روسی سیکیورٹی فرم ویگنر کے بانی یووگنیف پریگوژن   نے روسی فوج کے ان پر حملہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کا جواب دینے کے لیے کاروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پریگوژن نے اپنے ٹیلی گرام اکاونٹ پر ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ روسی فوج نے ویگنر کے کیمپوں پر حملہ کیا اوربھاری تعداد میں  ویگنر کے فوجی مارے گئے۔

ویگنر کے اس حرکت کا جواب دینے پر زور دینے والے  پریگوژن  کا کہنا ہے کہ” آج ہمارےآدمیوں کو ہلاک کرنےو الے اور دس ہزار فوجیوں کی ہلاکت کا موجب بننے والوں کو سزا دی جائیگی۔  جو بھی ہمارے مد مقابل آئے گا ہم انہیں خطرے کے طور پر قبول کریں گے اور فوری طور پر  ختم کر ڈالیں گے۔ ہمارے راستے  میں آ نے کی کوشش نہ کریں۔ اس جوابی کاروائی کے بعد  ہم دوبارہ محاذ کو لوٹتے ہوئے اپنے وطن کا دفاع کرنے کے عمل کو جاری رکھیں گے۔”

روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں  ویگنر کے کیمپوں سے تعلق ہونے والے سماجی رابطوں کے پیجز پر مناظر کو "جعلی” اور "اشتعال انگیزی”  سے تعبیر کیا ہے۔

اس حوالے سے بیان میں کہا  گیا ہے کہ” یہ پریگوژن اور اس کے حمایتیوں کی مسلح بغاوت ہے۔”

روسی قومی انسداد دہشت گردی  کمیٹی کی جانب سے دیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پریگوژن  کے بیانات درست نہیں  ہیں  اور ” فیڈرل سیکیورٹی سروس نے مسلح بغاوت کی کال کے خلاف فوجداری مقدمہ دائر کیا ہے۔ ہم غیر قانونی اقدامات کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”

بحران کی وجہ سے یوکرینی سرحد کے قریب روسی علاقوں میں حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں تو یوگینی پریگوژن کی قیادت میں ویگنر گروپ نے روستو-نا-دونو میں روسی جنوبی ملٹری ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کی عمارت کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

اس نے اطلاع دی ہے کہ  روستووف  کے فوجی ہوائی اڈے سمیت تمام تر فوجی  تنصیبات ان کے زیر کنٹرول ہیں۔

ایف ایس بی نے  ویگنر کے ارکان کو غلطی نہ کرنے ، اپنے لیڈر کے جرائم پر مبنی  احکامات  پر عمل درآمد نہ کرنے اور  پریگوژن کو گرفتار کرنے کی اپیل کی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں