کراچی: صوبہ سندھ میں چار ماہ کے دوران بچوں اور خواتین پر تشدد کے 900 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
سماجی ادارے کی خواتین اور بچوں پر تشدد، جنسی تشدد، اغوا، کم عمری میں شادی اورچائلڈ لیبر، ہیومن ٹریفکنگ، ٹریفک ان پرسن اور چائلڈ لیبرکے حوالے سےجاری رپورٹ میں انکشاف سامنے آیا ہے،
یہ سماجی ادارہ جو بچوں، خواتین پر تشدد کے واقعات کی روک تھام اور آگاہی کے لئے سرکاری اداروں کے ساتھ سرگرم ہے۔
رپورٹ کے مطابق سندھ بھر میں زیادتی کے 56 اورغیرت کے نام پر قتل کے 37 جبکہ بچوں سے جنسی تشدد کے 67 واقعات جبکہ 529 خواتین کے اغواء کے واقعات ہوئے۔ یکم جنوری 2023 سے 30 اپریل 2023 تک خواتین پرتشدد کے 771 ،بچوں پر تشدد کے 142 کیسز سامنے آئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے ضلع وسطی، کیماڑی اور حیدرآباد خواتین پر تشددوجرائم کے ہاٹ سپاٹ اضلاع کے طورپرسامنے آئے، ان 3 اضلاع میں خواتین پر تشدد کے بالترتیب 63، 58 اور 54 کیسز رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق بچوں پر تشدد کے 142 کیسز میں کراچی جنوبی21، کیماڑی 16، ویسٹ 13 کےساتھ ہاٹ سپاٹ اضلاع کے طور پر سامنے آئے۔ 4 ماہ کے مختصر عرصے میں گھریلو تشدد کے119 کیسز جبکہ 41 بچے اغوا ہوئے۔ اس عرصےکے دوران بچوں کی شادی کے 16 اور چائلڈ لیبر کے 14 کیسز بھی سندھ پولیس کو رپورٹ ہوئے.