مقبوضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہرجنین پر اسرائیل مسلح افواج کے فضائی حملوں اور چھاپوں کے نتیجے میں 9افراد ہلاک اور 50 زخمی ہو گئے ہیں۔
فلسطین وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی طرف سے جنین پر فضائی حملے کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور البرہ شہر میں اسرائیلی فوجی نے سر میں گولی مار کے ایک فلسطینی کو ہلاک کر دیا ہے۔
جنین پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 50 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے 10 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
بیان کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے بھی جنین میں فلسطینیوں کے ایک گھر کو 3 میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے کثیر تعداد میں بکتر بند گاڑیوں اور بلڈوزروں کے ہمراہ شہر پر دھاوا بول دیا اور جنین مہاجر کیمپ کو محاصرے میں لے لیا۔
فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وافا کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے جنین مہاجر کیمپ پر دھاوے میں فلسطینیوں کے بعض گھروں کا گھیراو کر لیا اور ایمبولینسوں کو زخمیوں تک نہیں پہنچنے دیا۔
جنین مہاجر کیمپ کے دخول و خروج کے راستے بند کر دیئے گئے اور اسرائیلی جنگی طیارے بھی شہر کی فضاوں میں پرواز کررہے ہیں۔
علاوہ ازیں اسرائیلی فوج کے بلڈروزوں نے علاقے کی سڑکوں کو اکھاڑ ڈالا اور بہت سے سِول گاڑیوں کو ناکارہ کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے جنین پر حملے سے متعلق جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ "شہر میں 10 سے زائد مقامات پر فضائی حملے کئے گئے اور "جنین بریگیڈ” نامی فلسطینی مجاہدین کے "مشترکہ آپریشن روم” کو ہدف بنایا گیا ہے”۔
اسرائیل ریڈیو کی نشر کردہ خبر کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنین پر دھاوے کے دوران 20 فلسطینیوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔
فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ عزت الدین القاسم بریگیڈ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ”ہم باہم متحد ہو کر جنین مہاجر کیمپ کے دفاع کی جنگ شروع کر رہے ہیں”۔
فلسطین صدارتی دفتر کے ترجمان نبیل ابو روزینہ نے جاری کردہ تحریری بیان میں "اسرائیل کی قابض حکومت کا جنین اور مہاجر کیمپ پر حملہ ہمارے نہتے عوام کے خلاف ایک اور جنگی جُرم ہے”۔
ابو روزینہ نے بیان میں بین الاقوامی برادری سے، یہ شرمناک خاموشی توڑنے ،فلسطینی عوام پر اسرائیلی حملوں کو بند کروانے اور اسرائیل کو ان تمام جنگی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانے کی، اپیل کی ہے ۔
فلسطینی وزارت خارجہ سے جاری کئے گئے بیان میں بھی ،ان خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کروانے کے لئے ، امریکہ اور بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔
بیان میں بین الاقوامی تعزیراتی عدالت سے بھی خاموشی کو توڑنے اور اسرائیلی جنگی مجرموں سے حساب طلبی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔