ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسرائیل کو ناکوں چنے چبوانے والا پراسرار فلسطینی کمانڈر

مقبوضہ بیت المقدس:صہیونی ریاست کو ناکوں چنے چبوانے والے حماس کے پراسرار کمانڈر نے انتہائی منظم انداز میں اسرائیل پر حملہ کرکے اسے دھول چاٹنے پر مجبور کردیا ہے۔

فلسطینی مزاحمتی تنظیم کی جانب سے اسرائیل پر کیا جانے والا حملہ ایسا ثابت ہوا، جس نے خود کو دنیا کی بہترین عسکری صلاحیت کی حامل ہونے کے دعوے دار صہیونی فوج کے چہرے سے نقاب اتار کر دنیا کے سامنے عیاں کردیا اور صہونی ریاست کو دن میں تارے دکھا دیے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے اسرائیل پر ہونے والے حملے سے متعلق دنیا بھر کا میڈیا کوریج دے رہا ہے جس میں صہیونی ریاست کے ہونے والے نقصان سے اس کی بے بسی ظاہر ہو رہی ہے۔

آسمانی ابابیل کی صورت صہیونی ریاست پر حملہ کرنے کے منصوبہ ساز فلسطینی کمانڈر الضیف کے بارے میں  دستیاب معلومات کے مطابق ان پر کئی مرتبہ قاتلانہ حملے کیے جا چکے ہیں، جس میں ان کی جان معجزانہ طور پر محفوظ رہی ہے۔ کمانڈر الضیف کی سماجی رابطوں پر دستیاب تصویر سے متعلق بتایا گیا ہے کہ یہ اس وقت کی ہے جب ان کی عمر صرف 20 برس تھی۔ ایک دوسری تصویر میں کمانڈر الضیف چہرے پر نقاب لگائے ہوئے ہیں جب کہ تیسری تصویر میں ان کا سایہ نظر آ رہا ہے۔

فلسطینی مجاہد کی صرف تین ہی تصاویر ہیں، جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بطور مصدقہ وائرل ہیں۔

واضح رہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے مجاہد کمانڈر الضیف کی بیوی، بیٹی اور ایک شیر خوار معصوم بچہ 2014ء میں ہونے والی اسرائیلی جارحیت میں بم باری کا نشانہ بن کر شہادت کا رتبہ پا چکے ہیں، جس کے بعد سے کمانڈر الضیف غزہ میں بنی سرنگوں میں شب و روز گزارتے ہیں اور وہ کیمرے سمیت کسی بھی قسم کے تکنیکی یا جاسوسی آلات کی پہنچ سے دُور ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق فلسطینی مجاہد کمانڈر الضیف نے صہیونی ریاست پر حالیہ منہ توڑ حملے کی حکمت عملی مبینہ طور پر 2 برس قبل یعنی مئی 2021ء میں بنائی تھی، جب مسجد اقصیٰ پر قابض صہیونی فوج نے حملہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ  فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے شعبہ تعلقات خارجہ کے سربراہ علی براکہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حماس گزشتہ 2 برس سے اسرائیل پر اس غیر معمولی حملے کی تیاری میں مصروف تھی۔

کمانڈر الضیف کے بنائے منصوبے، جسے عملاً طوفان الاقصیٰ کا عنوان دیا گیا، کے تحت اسرائیل کو طویل عرصے تک اس بات کا یقین دلایا گیا کہ حماس اس کے ساتھ کسی تنازع کا آغاز کرنا نہیں چاہتی، جس کے نتیجے میں اسرائیل اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ وہ عسکری لحاظ سے بہت طاقت ور ہے جب کہ حالیہ حملے میں اس کی انٹیلی جنس ، جدید ترین جاسوسی اور دفاعی نظام کے باوجود چیونٹی کے مانند حیثیت سامنے آ چکی ہے۔

فلسطینی مجاہد کا بنایا گیا منصوبہ انتہائی خفیہ رکھا گیا، جسے خود حماس کے رہنماؤں میں چند ہی لوگ جانتے تھے اور بالآخر جب یہ اعلان کیا گیا کہ القسام بریگیڈ کے کمانڈر الضیف ہفتے کے روز فلسطینیوں کو ایک تقریر میں مخاطب کرنے والے ہیں تو دہائیوں سے اسرائیلی مظالم سہنے والوں کو علم ہوگیا کہ ممکنہ طور پر معاملہ کیا ہو سکتا ہے۔

ہفتے کے روز فلسطینی کمانڈر الضیف نے اپنے پہلے سے ریکارڈ کیے گئے پیغام میں دیکھنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ آج صہیونی ریاست کے مسجد اقصیٰ پر کیے گئے حملے کے بدلے  کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی مجاہدو آج کا دن آپ کا ہے، اپنے مجرم اسرائیل کو بتا دیں کہ اس کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ حماس کے اسرائیل پر حالیہ حملے میں فلسطینی مجاہد آسمان ، سمندر اور زمینی راستوں سے قابض ریاست کی حدود میں داخل ہوئے اور ہزاروں راکٹ فائر کرنے کے علاوہ دیگر مزاحمتی دفاعی ذرائع استعمال کرکے صہیونی ریاست کے فوجی ٹھکانوں اور خفیہ مقامات تک پہنچے اور طاقت کے زعم میں مبتلا اسرائیل کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کردیا۔

حما س کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں میں اب تک 1200 سے زیادہ صہیونی فوجی اور شہری مارے جا چکے ہیں جن میں کچھ دیگر ممالک کے شہری بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کی غزہ پر بم باری میں شہید ہونے والوں کی تعداد 1055 سے متجاوز ہو چکی ہے، جن میں بڑی تعداد میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں