ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ایرانی وزیر خارجہ کا اسرائیل کا انتباہ

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں جو چاہے کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ "اگر ضروری ہوا تو آنے والے گھنٹوں میں اسرائیل کے خلاف کوئی بھی حفاظتی اقدام اٹھایا جا سکتا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ عبداللہیان نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں مزاحمتی رہنما اسرائیلی حکومت کو غزہ میں جو چاہے کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب غزہ  میں حالات پرسکون صورت اختیار کرلیں گے تو  وہ علاقے میں مزاحمت کے دیگر مراکز کا جائزہ لیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ آنے والے گھنٹوں میں تمام قسم کے احتیاطی اقدامات کو نافذ کیا جائے گا۔

امیر عبداللہیان نے زور دے کر کہا کہ مزاحمتی لیڈروں کے لفظ سے ان کا مطلب صرف حزب اللہ تحریک نہیں ہے۔

مزاحمتی گروہوں نے حالیہ برسوں میں پورے خطے میں بے ساختہ منظم ہو کر ملکوں کی آزادی کو برقرار رکھنے اور اسرائیلی حکومت کی بار بار کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ مزاحمت کے میدان میں جنگ کے پیمانے کی توسیع بھی بے ساختہ ہو جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ  یہ صورت حال ایک ایسی صورت حال پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے اسرائیل کا جغرافیائی نقشہ بدل جائے گا ۔

تنازع میں ایران کے داخلے کے حوالے سے عبداللہیان نے کہا کہ  تمام امکانات کا تصور کیا جا سکتا ہے اور انھوں نے امریکہ  سے ‘خواتین، بچوں اور دیگر شہریوں کے خلاف جنگی جرائم  بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

حماس کے عسکری ونگ، قسام بریگیڈز نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ اس نے اسرائیل پر "طوفانِ اقصیٰ  ” کے نام سے ایک جامع حملہ کیا ہے اور  غزہ سے اسرائیل کی طرف ہزاروں راکٹ فائر کیے گئے اور  مسلح گروپ علاقے کی بستیوں میں داخل ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے جنگی طیاروں سے غزہ کی پٹی کے خلاف آہنی تلواروں کا آپریشن شروع کیا ہے۔

بڑھتی ہوئی کشیدگی میں دونوں طرف سے ہزاروں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں