دو امریکی مسلمان محققین نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا غزہ کے مکینوں کے خلاف اسرائیل کے المناک تشدد پر ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ امریکی صدر عربوں اور مسلمانوں کی زندگیوں سے مکمل بے توجہی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور انہیں انسان نہیں سمجھتے۔
صدف جعفر، پرنسٹن یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کی ریسرچر اور لیکچرر اور امریکن افغان فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رکن فریشتا طیب نے امریکی ویب سائٹ “دی ہل” پر ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ بائیڈن کی جانب سے اسرائیل کو 14 بلین ڈالر کے اضافی ہتھیارفراہم کرنا اور جنگ بندی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ مسلمانوں کو انسان کے طور پر نہیں دیکھتی۔
دونوں محققین نے حیرت کا اظہار کیا کہ بائیڈن عربوں اور مسلمانوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کیوں نہیں کرتے اور فلسطین کے بچوں نے ایسا کیا کیا کہ اس طرح کے تشدد کے ذریعے ان سے ان کا مستقبل چھین لیا جائے، اور بائیڈن کو اس کی پرواہ کیوں نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں ہونے والے مصائب اور سانحات اور بائیڈن انتظامیہ کی بے حسی کو دیکھ کر جو دکھ اور درد محسوس ہوتا ہے اس کا اظہار کرنا مشکل ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بائیڈن کی فلسطینیوں کے حوالے سے موجودہ پالیسی پہلی بار نہیں ہے کہ صدر نے مسلمانوں کی زندگیوں کے لیے حقارت کا مظاہرہ کیا ہو۔
دونوں محققین کا کہنا تھا کہ ” یوکرین اور فلسطین میں جنگ کے درمیان بائیڈن کی امتیازی پالیسیاں اس نسل پرستانہ منطق کو ظاہر کرتی ہیں جس پر وہ قائم ہیں۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں مسلمانوں نے بائیڈن کی 2020 کی انتخابی مہم کے دوران یقین کیا تھا کہ ان پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے تئیں ان کا رویہ منصفانہ اور متوازن ہو گا، لیکن انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔