ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

حماس نے غزہ میں جنگ بندی کا مجوزہ معاہدہ قبول کرلیا، اسرائیلی ہٹ دھرمی برقرار

مقبوضہ بیت المقدس:فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں جنگ بندی کا مجوزہ معاہدہ قبول کرلیا ہے، تاہم  صہیونی ریاست اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی جانب سے قطر اور مصر (غزہ جنگ بندی کے ثالث) کو آگاہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے پیش کی گئی تجاویز قبول ہیں  اور جنگ بندی کے حوالے سے گیند اب اسرائیل کے کورٹ میں ہے۔

عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حماس رہنما خلیل الحیہ نے بتایا کہ ثالثوں نے حماس کو بتایا تھا کہ امریکی صدر  غزہ جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہیں۔ مصر اور قطر کی تجویز کردہ جنگ بندی تین مراحل میں ہوگی۔

جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں بے گھر فلسطینی اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اور غزہ کے لیے امدادی سامان اور ایندھن کی سپلائی شروع کی جائے گی۔ علاوہ ازیں پہلے مرحلے میں ہر ایک خاتون اسرائیلی قیدی کے بدلے اسرائیل کی جانب سے 50 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔

جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں حماس کے ہاتھوں اسرائیلی مرد یرغمالیوں  کو رہا کیا جائے گا، تاہم اس کے بدلے میں فلسطینیوں کو رہا کرنے کی تعداد فی الحال طے نہیں ہے،جب کہ  جنگ بندی کے تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے پر عمل درآمد شروع ہوگا۔

دوسری جانب صہیونی ریاست اسرائیل نے ہمیشہ کی طرح ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کے حوالے سے قطر اور مصر کا مجوزہ معاہدہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک اسرائیلی اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر  بتایا ہے کہ  حماس نے جن تجاویز سے اتفاق کیا ہے ان کے کچھ ایسے دور رس نتائج ہوں گے جنہیں اسرائیل قبول نہیں کرسکتا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں