ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ڈبہ پیک دودھ پر ٹیکس: حکومت نے صارفین پر 250 ارب روپے کا بوجھ ڈال دیا

Implementation

اسلام آباد: حکومت نے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ڈبہ پیک دودھ پر ٹیکس عائد کرکے صارفین پر 250 ارب روپے کا بوجھ ڈال دیا۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اتحادی حکومت ڈبہ دودھ پر ٹیکس لگا کر ارکان پارلیمنٹ کی اسکیموں کے اخراجات پورے کرنا چاہتی ہے، جس کے لیے 18 فی صد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کا نفاذ تجویز کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ایف بی آر کے چیئرمین ملک امجد توانہ نے کہا ہے کہ 18 فیصد جی ایس ٹی سے حکومت کو 75 ارب روپے حاصل ہوں گے، جو بجٹ میں ارکان اسمبلی کی اسکیموں کے لیے مختص رقم کے برابر ہے۔ دوسری جانب پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس کے بعد ڈبہ پیک دودھ کی فی لیٹر قیمت 50 سے 70 روپے بڑھ جائے گی اور اسی کے نتیجے میں کھلا دودھ بھی فی لیٹر 30 روپے تک مہنگا کرنے کا راستہ کھل جائے گا۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کا تخمینہ ہے کہ روایتی سیکٹر کا پاکستان میں فروخت ہونے والے دودھ میں حصہ صرف 8 فیصد ہے۔ نئے ٹیکس لگنے کے بعد یکم جولائی سے برانڈڈ دودھ کی قیمت 340 روپے فی لٹر ہو جائیگی۔ اس کے بعد برانڈڈ دودھ کے صارفین کھلا دودھ لینے پر مجبور ہوں گے اور یوں کھلے دودھ کی قیمتیں جو ابھی تک برانڈڈ دودھ سے 100روپے لٹر کم ہیں وہ بھی بڑھ جائیں گی۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پیکٹ والا دودھ چونکہ مڈل اور اپرمڈل کلاس کے لوگ استعما ل کرتے ہیں لہذا وہ 18فیصد جی ایس ٹی افورڈ کرسکتے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں