بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں ایک جونیر ڈاکٹر کی بہیمانہ ہلاکت کے بعد ملک بھر میں ڈاکٹرز کا احتجاج جاری ہے۔
ریاستی حکومتوں پر زور دیا جارہا ہے کہ سیکیورٹی کے بہتر انتظامات متعارف کرائے جائیں اور کسی بھی جونیر ڈاکٹر سے زیادتی کی کوشش کرنے والوں کو کسی حال میں معاف نہ کیا جائے۔
کولکتہ کی جونیر ڈاکٹر کو زیادتی کے بعد انتہائی سفاکی سے قتل کیا گیا۔ ملزم نے اعترافِ جرم کرلیا ہے۔ اُسے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔
آسام کے ایک میڈیکل کالج نے گزشتہ روز ایڈوائزری جاری کی جس میں لیڈی ڈاکٹرز سے کہا گیا کہ وہ رات کو باہر نکلنے میں احتیاط برتیں اور بلا ضرورت باہر نہ جائیں۔ اس پر شدید احتجاج ہوا ہے۔ ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ ہمیں احتیاط برتنے کی ہدایت کرنے کے بجائے کالج کی انتظامیہ اور مقامی انتظامی مشینری کو اپنے معاملات درست کرنے چاہئیں اور سیکیورٹی کے بہتر، فول پروف انتظامات یقینی بنانے چاہئیں۔
آسام کے سِلچر میڈیکل کالج نے اپنی ایڈوائزری میں ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر اسٹاف سے کہا تھا کہ وہ گنجان آباد علاقے میں رات کو باہر نکلنے سے گریز کریں۔ کالج کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کالج کی حدود میں تو سیکیورٹی کے انتظامات کیے جاسکتے ہیں، علاقے بھر میں اپنے اسٹاف کے ارکان کا تحفظ یقینی بنانا اُس کے بس کی بات نہیں۔ آسام کے وزیرِاعلیٰ کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ نیشنل میڈیکل کمیشن سے مشاورت کے بعد دوسری ایڈوائزری جاری کی جائے گی۔
