بھارت کی جانب سے ایک اور سیلابی ریلا چھوڑنے کے بعد دریائے ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں سیلاب کی صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ ساڑھے تین لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے، جب کہ دریائے ستلج کے دیگر مقامات پر بھی پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بورے والا، جملیرا، میلسی ہیڈ سائفن اور دیگر مقامات پر بھی پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دریائے راوی اور چناب میں بھی اونچے درجے کا سیلاب نوٹ کیا گیا ہے۔ ہیڈ بلوکی پر پانی کی سطح بڑھ کر ایک لاکھ 57 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی ہے جبکہ دریائے چناب کے مقام چنیوٹ پر پانی کا بہاؤ ساڑھے چار لاکھ کیوسک سے زیادہ ہو گیا ہے۔
دریائے سندھ کے بیراجوں، گڈو، سکھر اور کوٹری پر فی الحال نچلے درجے کا سیلاب ہے، تاہم حکام نے خطرات کے پیشِ نظر تمام ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
سندھ کے بیراجوں پر اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم میں پانی کی آمد و اخراج کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پی ڈی ایم اے سندھ نے ریسکیو کے لیے درجنوں کشتیاں مختلف اضلاع میں روانہ کر دی ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری نکاسی اور امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔
پنجاب کے متاثرہ اضلاع، خصوصاً سیالکوٹ، نارووال، گجرات اور شکرگڑھ میں پاک فوج بڑے پیمانے پر ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ فوجی جوان فضائی اور زمینی راستوں سے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔
متاثرین کے لیے قائم ریلیف کیمپس میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ میڈیکل ٹیمیں فوری طبی امداد مہیا کر رہی ہیں۔
جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل محمد عمران خان بابر نے سیالکوٹ کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے ریلیف کیمپوں کا جائزہ لیا اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات بھی کی۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے تاکہ متاثرین کو زیادہ سے زیادہ سہولت پہنچائی جا سکے۔ پاک فوج کی ان کاوشوں سے ہزاروں افراد کو نہ صرف ریلیف ملا ہے بلکہ ان میں زندگی کی نئی امید بھی جاگی ہے۔