مظفرآباد:۔ وفاقی وزرا کے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوگئے۔ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر امیر مقام اور طارق فضل نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات مان لیے گئے تھے مگر بعد میں ایسی شرائط سامنے لائی گئیں جن کے لیے کابینہ کی منظوری اور آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ آئینی ترمیم سے متعلق امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا ہماری سمجھ سے باہر ہے، جب بات منطقی انجام تک پہنچتی ہے تو نئے مطالبات سامنے آجاتے، حکومت نے دروازے بند نہیں کیے، اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
وفاقی وزرا نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے مگر کسی کو زبردستی کاروبار بند کرانے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔ آزاد کشمیر کے عوام لاک ڈاﺅن کی کال مسترد کردیں گے۔ زبردستی دکانیں اور شاہراہیں بند کرانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔