یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے لیے لڑنے والا ایک بھارتی نوجوان ہتھیار ڈال کر ان کی قید میں آ گیا ہے۔
یوکرینی میڈیا کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت 22 سالہ مجوتی ساحل محمد حسین کے نام سے ہوئی ہے جو بھارتی ریاست گجرات کے ضلع موربی کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین میں ایک بھارتی شہری کی گرفتاری سے متعلق رپورٹس موصول ہوئی ہیں اور اس معاملے کی تفصیلات کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
گرفتار بھارتی شہری نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ منشیات کے مقدمے میں 7 سال قید کاٹ رہا تھا، تاہم روسی حکام نے اسے سزا معاف کرنے کے عوض فوج میں شمولیت کی پیشکش کی جسے اس نے قبول کرلیا۔ اس کے مطابق اسے صرف 16 دن کی فوجی تربیت دی گئی اور یکم اکتوبر کو پہلی جنگی کارروائی میں بھیج دیا گیا۔
نوجوان کے مطابق، وہ 3 دن لڑنے کے بعد ایک کمانڈر سے جھگڑے کے نتیجے میں یوکرینی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جرمن میڈیا نے رواں سال 11 فروری کو رپورٹ کیا تھا کہ کم از کم 12 بھارتی شہری روس کے لیے لڑتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 16 تاحال لاپتا ہیں۔