سانتیاگو:۔ جنوبی امریکی ملک چلی کے وزیر توانائی ڈیئیگو پارڈو نے بجلی صارفین کو غلطی سے زیادہ بل بھیجنے پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ شنہوا کے مطابق چلی کے صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر گیبریئل بورک نے بجلی کے نرخوں کے تعین میں ملک گیر سطح پر ہونے والی سنگین غلطی کے بعد وزیر توانائی ڈییگو پارڈو کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔
ڈیئیگو پارڈو نے مقامی ریڈیو سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ انہیں دو ہفتے قبل نیشنل انرجی کمیشن کی جانب سے ایک رپورٹ موصول ہوئی، جس میں صارفین کے لیے بجلی کے نرخ مقرر کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے متواتر حساب میں غلطی کا انکشاف ہوا تھا، جس کے نتیجے میں اضافی چارجز ہوتے تھے۔ یہ غلطی بجلی کے بلوں میں اضافے کا باعث بنی، جس نے ملک میں افراطِ زر (مہنگائی) کو مزید بڑھا دیا۔
وزیر توانائی کے مطابق یہ غلط نرخ 2017ءسے عوامی اور نجی دونوں اداروں کی نظروں سے اوجھل رہے۔ چلی کی حکومت نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ وہ ان خاندانوں کو معاوضہ دے گی جن سے بل لیا گیا تھا۔ ڈیئیگو پارڈو کی جگہ اب موجودہ وزیر اقتصادیات، ترقی اور سیاحت الوارو گارشیا کو وزیر توانائی مقرر کیا گیا ہے، جو اب دونوں وزارتوں کی سربراہی کریں گے۔