دنیا کے دو سب سے طاقتور ممالک روس اور امریکا کو ایک حیرت انگیز منصوبے کے ذریعے جوڑنے کی تجویز نے عالمی سطح پر سنسنی پیدا کر دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق روس کے اعلیٰ نمائندے اور صدر ولادیمیر پیوٹن کے سرمایہ کاری مشیر کریل دیمتریف نے ایک غیر معمولی خیال پیش کیا ہے، جس کے تحت آبنائے بیرنگ (Bering Strait) کے نیچے 112 کلومیٹر طویل ’’پیوٹن۔ٹرمپ ریلوے سرنگ‘‘ تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔
کریل دیمتریف، جو روسی ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ (RDIF) کے سربراہ بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ سرنگ دونوں ممالک کو نہ صرف معاشی طور پر قریب لانے بلکہ امن، تعاون اور قدرتی وسائل کی مشترکہ ترقی کی علامت بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ 8 ارب ڈالر کی لاگت سے 8 سال سے کم عرصے میں مکمل کیا جا سکتا ہے، جسے ماسکو اور عالمی سرمایہ کاروں کے اشتراک سے فنڈ کیا جائے گا۔
یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صدر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر یوکرین میں ممکنہ جنگ بندی اور بڈاپسٹ میں ملاقات کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ دیمتریف نے اس موقع پر کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ دیواریں گرائی جائیں اور دنیا کو جوڑنے والی سرنگ بنائی جائے۔
انہوں نے ایلون مسک کی کمپنی The Boring Company کو منصوبے کا ٹھیکہ دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں دیمتریف نے لکھا کہ سوچیے، اگر امریکا اور روس بلکہ امریکا، افریقا اور یوریشیا ایک سرنگ سے جڑ جائیں۔ یعنی ایک ایسا راستہ جو اتحاد اور امن کی علامت بنے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ منصوبہ ایلون مسک کی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بنایا گیا تو اس کی لاگت روایتی اندازے (65 ارب ڈالر) کے مقابلے میں صرف 8 ارب ڈالر تک محدود رہ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سلسلے میں ابھی تک نہ ایلون مسک اور نہ ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز پر کوئی ردِعمل دیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق آبنائے بیرنگ کے نیچے سرنگ تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ چوکوٹکا جیسے روسی خطے میں سڑکوں اور ریلوے کا بنیادی انفرا اسٹرکچر تیار کرنے کے لیے بھی بھاری سرمایہ درکار ہوگا۔
دیمتریف نے یہ بھی یاد دلایا کہ سرد جنگ کے زمانے میں بھی ایک ایسا ہی خواب دیکھا گیا تھا ۔ ’’کینیڈی۔خروشیف ورلڈ پیس برج‘‘ جس کے تحت روس اور امریکا کو ایک پل کے ذریعے جوڑنے کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے اُس تاریخی خاکے کی ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں اُس وقت کے اور موجودہ ممکنہ راستے دکھائے گئے تھے۔
کریل دیمتریف کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک انفرا اسٹرکچر منصوبہ نہیں بلکہ انسانیت کے درمیان فاصلے مٹانے کی ایک نئی شروعات ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم سرحدوں کے بجائے رشتوں کی سرنگ بنائیں۔