چمن : پاکستان اور افغانستان کے درمیان اسپن بولدک بارڈر کراسنگ دوبارہ کھول دی گئی ہے،میڈیا رپورٹ کے مطابق فی الحال سرحد صرف تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند حساس معاملات کے باعث عام شہریوں کی پیدل آمدورفت کی اجازت تاحال نہیں دی گئی، سرحد کے دونوں جانب ٹریڈ کراسنگ اور کلیئرنس سے متعلقہ حکام اپنی ذمے داریاں سنبھال چکے ہیں۔
پیر کو صرف خالی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ افغان ڈرائیورز کے لیے پاسپورٹ اور ویزا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق منگل کو انہی شرائط پر طورخم بارڈر بھی کھولا جائے گا، جس سے متعلق افغان ایمبیسی اسلام آباد کو مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر تین کراسنگ پوائنٹس غلام خان، انگور اڈہ اور خرلاچی فی الحال غیر فعال رہنے کا امکان ہے۔