ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

آئینِ پاکستان سیاسی جماعتوں پر پابندی سے متعلق کیا کہتا ہے

آئین پاکستان کے مطابق اگر کوئی سیاسی جماعت ملکی سلامتی یا وحدانیت کے خلاف سرگرم پائی جائے تو اس پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 17 کی شق 2 کے تحت ممکن ہے۔

تاہم آئین یہ بھی واضح کرتا ہے کہ کسی سیاسی جماعت پر پابندی کا فیصلہ سپریم کورٹ کی توثیق کے بغیر حتمی نہیں ہوتا۔ حکومت اگر کسی جماعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرے تو اسے 15 دن کے اندر ریفرنس سپریم کورٹ میں بھجوانا ہوتا ہے۔ اس ریفرنس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی یہ طے کرتا ہے کہ پابندی نافذ ہوگی یا نہیں۔

اسی طرح الیکشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 212 میں سیاسی جماعت کی تحلیل (dissolution) سے متعلق تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اس کے مطابق اگر وفاقی حکومت کو الیکشن کمیشن کی سفارش یا کسی اور ذریعے سے یہ یقین ہو جائے کہ کوئی سیاسی جماعت پاکستان کی خودمختاری، سالمیت یا قومی سلامتی کے خلاف کام کر رہی ہے، یا دہشت گردی میں ملوث ہے، تو حکومت اس جماعت کے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیج سکتی ہے۔ اگر سپریم کورٹ اس ڈیکلریشن کو برقرار رکھتی ہے تو وہ جماعت تحلیل (ختم) سمجھی جائے گی۔

مزید یہ کہ الیکشن ایکٹ کی سیکشن 213 کے مطابق جب کوئی جماعت تحلیل ہو جاتی ہے تو اس جماعت سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی یا مقامی حکومت کے تمام ارکان اپنی باقی مدت کے لیے نااہل قرار پاتے ہیں۔

یوں آئین اور قانون کے مطابق کسی سیاسی جماعت پر پابندی کا فیصلہ محض انتظامی نہیں بلکہ عدالتی توثیق سے مشروط عمل ہے، تاکہ سیاسی آزادی اور ریاستی سلامتی کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں