لاہور: جنرل اسپتال لاہور میں خواتین کی میتوں کا پوسٹ مارٹم مرد عملے سے کرائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جو انسانی حقوق اور طبی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنرل اسپتال کے مردہ خانے میں خواتین کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم لیڈی ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں مرد عملہ انجام دے رہا ہے۔
اس حوالے سے ایک فوٹیج بھی وائرل ہوئی ہے جس میں خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مرد اہلکار کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ کسی خاتون ڈاکٹر یا میڈیکل آفیسر کی موجودگی نہیں دیکھی گئی۔
طبی ماہرین کے مطابق قانونی و اخلاقی اصولوں کے تحت خواتین کی میتوں کا پوسٹ مارٹم صرف لیڈی ڈاکٹر یا لیڈی میڈیکل آفیسر کی موجودگی میں کیا جانا چاہیے، تاہم اسپتال انتظامیہ نے مبینہ طور پر اس اصول کو نظرانداز کرتے ہوئے کارروائی جاری رکھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر کی عدم دستیابی کے باوجود اسپتال انتظامیہ نے پوسٹ مارٹم مکمل کرایا، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔