فیصل آباد: سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز پر برس پڑے ۔انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب آج ہمارے مساجد کے آئمہ کو 10 ہزار روپے میں خریدنے کی کوشش کررہی ہیں، محترمہ جان لو! یہ وظیفہ تمام مکاتب فکر اور مدارس کی طرف سے آپ کے منہ پر مارتا ہوں۔
انہوں نے مسلم چناب نگر میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کے آئمہ کو وظیفہ دینے کا یہ تجربہ خیبرپختونخواہ میں چھ سات سال پہلے بھی ہوا تھا، اس وقت بھی 10ہزار روپے تھے اور آج مولوی کےلیےپھر وہی 10ہزار روپے؟ شرم آنی چاہیے۔
آج ہمارے مساجد کے ائمہ کو دس ہزار روپے سے خریدنے کی کوشش کررہی ہیں، محترمہ جان لو یہ 10 ہزار روپیہ اس اسٹیج سے میں پورے مکاتب فکر اور تمام مدارس کی طرف سے آپ کے منہ پر مارتا ہوں۔
ہمارا مدرسہ ہو، استاد، ہو یا پھر مہتمم ہو،مسجد کا امام یا خطیب ہو، یہ سب دنیا میں اپنی خودداری کی پہچان رکھتے ہیں، ہم نے اپنی تحریک کو سرکار کی مداخلت اور اس کے پیسے کے بغیر جاری رکھا ہے۔
واضح طور پر اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ دینی مدارس میں آپ کی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا، تم نے تاریخ میں دینی علوم کو ذبح کیا ہے، انگریز کے دور سے لے کر78سال تمہارے دینی علوم کو ذبح کرنے کی تاریخ ہے۔
آج پھر ہم اس کو آپ کے حوالے کردیں، ہمیں آپ پر کوئی اعتماد نہیں، تمہارے ہاتھ میں جو مدرسہ لگا وہ اسکول بن گیا، تمہارے ہاتھ میں جو دارلعلوم لگا وہ کالج بن گیااور آج وہاں کوئی دینی علم موجود نہیں، اس طرح کے تجربے ہم مزید روز روز نہیں کرسکتے۔
علاوہ ازیںجمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اب ڈونلڈ ٹرمپ کہاں ہے جو کہتا تھا میں نے غزہ میں جنگ بند کرائی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے کسی فارمولے کو نہیں مانتے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی بمباری سے فلسطینی شہید ہو رہے ہیں، فلسطین کی آزادی امت مسلمہ کی منزل ہونی چاہیے۔