بیلم: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مل کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ یہ چیلنج کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے۔
برازیل کے شہر بیلم میں منعقدہ کاپ 30 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پنجاب پانچ دریاؤں کی سرزمین ہے لیکن حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے صوبے کو شدید متاثر کیا ہے، پنجاب حکومت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ماحول کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صوبے کے ہر گلی، محلے اور علاقے میں صفائی کو یقینی بنایا جا رہا ہےجبکہ آلودگی پھیلانے والی صنعتوں اور بھٹوں کی مانیٹرنگ جدید نظام سے کی جا رہی ہے۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے خصوصی مہم شروع کی گئی ہے، جس میں ڈرون کے ذریعے مانیٹرنگ اور ڈیجیٹل رپورٹنگ شامل ہے، جنگلات کے بغیر موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج پر قابو پانا ممکن نہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے میں الیکٹرک وہیکلز اور بائیکس کے فروغ کے لیے پالیسی پر عمل جاری ہے، جبکہ پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت خصوصی فورس بھی قائم کی گئی ہے جو جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، پنجاب کو ماضی میں تاریخی سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
کاپ 30 کانفرنس میں دنیا بھر کے رہنماؤں نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات، قابل تجدید توانائی کے فروغ، اور عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔