لاہور: قرضوں سے نجات کے لیے پیاف نے حکومت کو کفایت شعاری اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے مختلف تجاویز دی ہیں۔
پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف ) کے پیٹرن انچیف میاں سہیل نثار ،چیئرمین سید محمود غزنوی ،سینئر وائس چیئرمین مدثر مسعود چودھری اور وائس چیئرمین راجا وسیم حسن نے کہا ہے کہ غیر ملکی قرضو ں کے چنگل سے چھٹکاراپائے بغیر پاکستان اپنے پاﺅں پر کھڑ انہیں ہوسکتا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے مختلف آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت 2.69ارب ڈالر کے مساوی سود کی مد میں ادا کیے ہیں جس میں 2008سے جون 2025تک 401.24ملین ایس ڈی آر کے اضافی چارجز بھی شامل ہیں۔
قرض اتارنے کی ابتداءکرنے کےلیے سب سے پہلے وفاقی اورصوبائی حکومتیں اپنے اخراجات میں 60فیصد کٹوتی کا اعلان کریں۔ اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ حالیہ جو رپورٹ سامنےآئی ہے۔
اس کے مطابق حکومت نے 2009تا 2015کے دوران 257.5ملین ایس ڈی آر سود کی مد میں ادا کیے،ایمرجنسی نیچرل ڈیزاسٹر اسسٹنس 2010 کے تحت 2010تا 2015کے دوران 14.5ملین ایس ڈی آر مارک اپ ادا کیے گئے جبکہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے تحت 2013تا 2025کے دوران حکومت نے 543.6ملین ایس ڈی آر ادا کیے۔
اس کے علاوہ حکومت نے 2019تا 2025کے دوران ایکسٹینڈڈ فیسیلٹی 2019پر 411.4ملین ایس ڈی آر سود ادا کیے،ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ لون 2020کے تحت 2020تا 2025کے دوران حکومت نے 110.1ملین ایس ڈی آر سود برداشت کیا۔
اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ 2023کے تحت 2023تا 2025کے دوران 142.23ملین ایس ڈی آر سود ادا کیے گئے، ای ایف ایف 2024کے تحت حکومت نے 2024تا 2025کے دوران 17.6ملین ایس ڈی آر سود ادا کیے. حکومت نے سب سے زیادہ سود کی رقم 2025کے کیلنڈر سال میں 376ملین ایس ڈی آر ادا کی، 2023میں یہ رقم 325.79ملین ایس ڈی آر اور 2022میں 142.6ملین ایس ڈی آر رہی۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی قرضوں کا اژدھا قومی دولت کو نگل رہا ہے، اس لیے پالیسی سازوں سے درخواست ہے کہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلیے پارلیمنٹ کی سطح پر پالیسی بنائی جائے ۔