ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

دو ججز کے استعفے پر وزیر مملکت قانون کا ردعمل: پارلیمان کا اختیار چیلنج نہیں کیا جا سکتا

اسلام آباد:وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ججز کا استعفیٰ دینا ان کا حق ہے، تاہم اپنے خطوط میں عدلیہ پر حملے کا تاثر دینا غیر آئینی اور افسوس ناک ہے۔

بیرسٹر عقیل نے کہا کہ اگر ججز کو کوئی گلہ تھا تو وہ چیف جسٹس سے بات کر سکتے تھے، مگر انہوں نے خط و کتابت کے بعد براہ راست استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا،یہ اقدام کئی حوالوں سے غیر آئینی بھی کہا جا سکتا ہے۔

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ پارلیمان کو آئینی ترامیم اور قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہے اور اداروں کے درمیان حدود واضح طور پر متعین ہیں،سپریم کورٹ اسی آئین کے تحت قائم ہے، اس لیے 27ویں آئینی ترمیم کو کسی کے خلاف اقدام قرار دینا درست نہیں۔

ان کے مطابق آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام میں بہتری آئے گی اور آئین خود یہ اجازت دیتا ہے کہ وقت اور حالات کے مطابق اس میں تبدیلی کی جا سکے، عدالتوں کو سیاسی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہیے بلکہ فیصلے خالصتاً قانون اور انصاف کے مطابق ہونے چاہییں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اپنے استعفے میں جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے اور اس ترمیم نے سپریم کورٹ کو  ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ آئین، جس کی پاسداری کا انہوں نے حلف لیا تھا، اب اپنی اصل روح کھو چکا ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں