دنیا بھر میں سیاست، طاقت اور دولت کے تعلق پر ہمیشہ سوال اٹھتے رہے ہیں اور سیاستدانوں کے مالی وسائل اکثر عوامی بحث کا مرکز بنتے ہیں, ایک تازہ بین الاقوامی رپورٹ میں دنیا کے امیر ترین سیاستدانوں کی فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں کئی طاقتور حکمران نمایاں مقام پر نظر آتے ہیں۔
بین الاقوا می رپورٹس کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن دنیا کے امیر ترین سیاستدان قرار پائے ہیں، جن کی مجموعی دولت کا اندازہ تقریباً 200 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، اگرچہ ان کی دولت کے ذرائع پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، عالمی تحقیقی اداروں کے مطابق ان کے پاس نجی کاروبار، توانائی کے شعبوں سے اثر و رسوخ اور خفیہ اثاثوں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔
امیر ترین حکمرانوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو شامل ہیں، جن کی دولت کا تخمینہ تقریباً 9 ارب ڈالر بتایا گیا ہے، موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً 7.2 ارب ڈالر کے ساتھ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہیں، کاروباری پس منظر کے باعث ٹرمپ کے اثاثوں میں رئیل اسٹیٹ، گولف کورسز اور تجارتی ادارے شامل ہیں۔
فہرست میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن تقریباً 5 ارب ڈالر جب کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی دولت کا تخمینہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر لگایا گیا ہے، افریقی ملک ایکویٹوریل گنی کے صدر تیودورو اوبیانگ تقریباً 60 کروڑ ڈالر کے ساتھ اس فہرست میں شامل ہیں۔
دیگر امیر سیاستدانوں میں روانڈا کے صدر پال کاگامے، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا بھی شامل ہیں۔ ان رہنماؤں کی دولت تشخیص کرنے کے لیے نجی سرمایہ کاری، خاندانی جائیدادوں، کاروباری شراکت داریوں اور ریاستی اثر و رسوخ کو مدنظر رکھا گیا۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام تخمینے عوامی مالی دستاویزات، کاروباری سرگرمیوں اور غیر سرکاری تجزیوں کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں جبکہ متعلقہ ریاستوں کی جانب سے ان تخمینوں کی سرکاری سطح پر تردید یا تصدیق موجود نہیں۔