ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

وفاقی حکومت کا عمران خان کی اڈیالہ جیل سے ممکنہ منتقلی پر غور شروع

 وفاقی حکومت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کسی دوسری قید گاہ میں منتقل کرنے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی کے راستے محدود ہوتے جا رہے ہیں اور حکومت کے نزدیک پی ٹی آئی کی موجودہ حکمتِ عملی ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی منظم کوشش نظر آ رہی ہے، احتجاج کے نام پر انتشار پھیلانے اور تصادم کی فضا پیدا کرنے کی شعوری کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اسلام آباد میں پرس کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے بھی اس بارے میں کھل کر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی پوری کوشش ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے دوسری جگہ منتقل کیا جائے اور حکومت بھی اب اس مطالبے یا خدشے کو محض سیاسی نعرہ نہیں سمجھ رہی بلکہ سنجیدگی سے اس پر غور کر رہی ہے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے اڈیالہ جیل کے باہر جاری احتجاج پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس دھرنے نے عوام کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے،  یہ عناصر نہ صرف شہریوں کو مشکلات میں مبتلا کر رہے ہیں بلکہ ملک کے وقار اور ترقیاتی عمل پر بھی مسلسل حملہ آور ہیں۔

اختیار ولی نے کہا کہ احتجاج کی مثالیں تو چند منٹ یا چند گھنٹوں پر مشتمل مظاہروں کی ہوتی ہیں، مگر یہاں ہر ہفتے پنڈی اور اڈیالہ روڈ کے مکینوں کی زندگی مفلوج بنا دی جاتی ہے۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ اسکول جانے والے بچوں سے لے کر واپس گھروں کو لوٹنے والوں تک، سب کی روزمرہ مصروفیات بری طرح متاثر ہوتی ہیں اور معمولاتِ زندگی محال ہو چکے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست کسی صورت بدامنی اور دباؤ کی سیاست کے آگے جھکنے کا ارادہ نہیں رکھتی، پاک فوج نے دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کیا۔

اختیار ولی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پر منشیات کے اسمگلروں سے مبینہ روابط کے سائے منڈلا رہے ہیں، جب کہ حکومتی کارکردگی صفر نہیں بلکہ منفی درجہ بندی کی تصویر پیش کر رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ کے بعض قریبی رشتے دار بھی منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں اور صوبے کی اعلیٰ قیادت اس جال کی سرپرستی کرتی ہے، جس سے حکومتی معاملات مزید خراب ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا دیا تھا۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی، پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا اور ماحول میں شدید تناؤ دیکھنے میں آیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں