ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

حکومت کا کرپٹو اور ورچوئل اثاثہ جات ضابطے میں لانے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے ملک میں کرپٹو اور ورچوئل اثاثہ جات کو ضابطے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی تجزیاتی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثہ جات سے متعلق سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر حکومت اس شعبے کو ایک منظم، باقاعدہ اور ضابطہ شدہ فریم ورک کے تحت لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ جدت، سرمایہ کاری اور مالی شمولیت کو فروغ دے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ بات انہوں نے منگل کے روز اسلام آباد میں آئی کوائن ٹیکنالوجی انکارپوریٹڈ کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں وفد کی قیادت کمپنی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر چیٹ سلویسٹری کر رہے تھے جب کہ وفد میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) ٹیری روبلنگ، محمود اظہر جبار اور طارق حفیظ ملک بھی شامل تھے۔

ملاقات کے دوران ڈیجیٹل اثاثہ جات، بلاک چین ٹیکنالوجی اور ممکنہ ریگولیٹری ڈھانچے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے وفد کو آگاہ کیا کہ حکومت پاکستان ڈیجیٹل اثاثہ جات کے لیے ایک ذمہ دارانہ اور شفاف نظام کی تشکیل پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کرپٹو کونسل اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام میں ہونے والی پیش رفت، پالیسی اقدامات کی ترتیب اور مجوزہ فریم ورک کے ممکنہ اثرات سے متعلق تفصیلات شیئر کیں اور بتایا کہ یہ اقدامات مارکیٹ کی منظم ترقی، مالی شمولیت، شفافیت اور صارفین کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنیں گے۔

محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ ڈیجیٹل اثاثہ جات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں ضابطہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ اس شعبے میں موجود مواقع اور ممکنہ خطرات کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ پالیسی فریم ورک مارکیٹ کے شرکا کو واضح رہنمائی فراہم کرے گا، عالمی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ ہوگا اور اسٹیٹ بینک سمیت تمام متعلقہ ریگولیٹرز کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بنائے گا۔

اس موقع پر آئی کوائن ٹیکنالوجی کے چیئرمین چیٹ سلویسٹری نے امریکا اور کینیڈا کی منڈیوں میں ڈیجیٹل اثاثہ جات کے تجربات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریگولیٹری وضاحت کے بعد کس طرح ترقی یافتہ ممالک میں روایتی مالیاتی ادارے موجودہ بینکاری نظام کے اندر رہتے ہوئے ڈیجیٹل اثاثہ جات کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہوئے۔ وفد نے والٹ پر مبنی مڈل ویئر اور جدید سوئچنگ ٹیکنالوجیز کی افادیت پر بھی روشنی ڈالی۔

ملاقات میں بلاک چین ٹیکنالوجی اور اسٹیبل کوائنز کی اس صلاحیت کو بھی اجاگر کیا گیا جو مالیاتی نظام کو جدید بنانے، تیز رفتار اور کم لاگت لین دین، شفافیت اور ریگولیٹری نگرانی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

وفد نے پاکستان میں نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف آبادی کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس سرگرمی کو ضابطہ شدہ انداز میں بینکاری نظام کے ذریعے آگے بڑھایا جائے تو اسے رسمی معیشت کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر فریقین نے رابطے برقرار رکھنے اور تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں