اسلام آباد:وفاقی مشیر سینیٹر رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ کوئی ونڈر بوائے نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی سونے کی جگہ ہیرا آئے گا۔
علینہ شگری کے ساتھ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روزانہ شام کو 20 سے 25 ٹاک شوز ہونے ہوتے ہیں، اِس طرح کی ا سٹوریز آتی رہنی چاہییں اور اس پر گفتگو بھی ہوتی رہنی چاہیے لیکن کوئی ونڈر بوائے نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی سونے کی جگہ ہیرا آئے گا۔
ایک سوال پر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماءنے جواب دیا کہ پی ٹی آئی مزاحمت کا فیصلہ کر چکی ہے، اِسی لیے 8 فروری تک تو کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
اگر یقین دہانی کروائی جائے کہ عمران خان کی ملاقات کو 8 فروری کی پہیہ جام ہڑتال کےلیے استعمال نہیں کیا جائے گا تو کل صبح ہی ملاقات ہو سکتی ہے۔
عظمیٰ خان یقین دہانی کروائیں کیونکہ ان کی عمران خان سے ملاقات بھی ہوئی ہے، میں نے محمود خان اچکزئی کو وزیراعظم سے ملاقات کی آفر کی تھی مگر وہ پہلے اڈیالہ جیل جانا چاہتے ہیں۔
رانا ثنااللہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کی 8 فروری کی پہیہ جام ہڑتال بری طرح ناکام ہوگی، سہیل آفریدی کے لاہور اور کراچی جانے سے حکومت کو کوئی پریشانی نہیں، چند لوگوں سے خطاب کرنے سے تحریکیں نہیں چلتیں۔
سندھ حکومت نے پی ٹی آئی کے معاملے پر سیاسی رواداری کا مظاہرہ کیا ہے، پنجاب میں بھی سہیل آفریدی کو ویلکم کیا گیا اور انہیں پنجاب اسمبلی آنے کی دعوت دی گئی، تاہم انہوں نے 35 افراد کے نام دیے اور اسمبلی 150 افراد کے ساتھ پہنچ گئے جس سے ماحول خراب ہوا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے کہا کہ پی ٹی آئی کی 8 فروری کو پہیہ جام ہڑتال کی کوئی سنجیدہ تیاری موجود نہیں، 8 فروری کے بعد پی ٹی آئی کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
پی ٹی آئی کی پہیہ جام کی ہڑتال اپنی جماعت کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ ہے، فی الحال پی ٹی آئی کسی تحریک کو چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے، پی ٹی آئی کا عمل قابلِ اعتراض ہے اگرچہ پی ٹی آئی کہتی ہے وہ دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتی لیکن وہ ان افواجِ پاکستان کی بھی حمایت نہیں کرتی جو دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔