ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ایران کی دفاعی تیاریوں اور میزائل صلاحیت میں نمایاں بہتری کا اعلان

تہران: ایرانی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ گزشتہ برس جون میں ہونے والی جنگ کے بعد ملک کی میزائل صلاحیت میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے اور اب ایران کے پاس پہلے سے زیادہ طاقتور اور مؤثر میزائل نظام موجود ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا کہ جنگ کے دوران حاصل ہونے والے عملی تجربات کی بنیاد پر نہ صرف میزائلوں کی کارکردگی بہتر کی گئی ہے بلکہ ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک کے مطابق ایرانی میزائلوں کی صلاحیت اور مقدار اب اس سطح پر پہنچ چکی ہے جو 12 روزہ جنگ کے دوران موجود نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ میزائلوں کی درستگی، رفتار اور ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں بھی بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگی حالات میں حاصل ہونے والے تجربات نے ایران کو اپنی دفاعی حکمت عملی مزید مؤثر بنانے میں مدد دی ہے۔

ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ حالیہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص صلاحیت کے حامل نئے میزائل بھی تیار کیے گئے ہیں، تاہم ان کی تفصیلات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر دشمن کو غیر متوقع اور حیران کن جواب دیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی دفاعی تیاریوں کو محض دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دینا اس کا حق ہے۔

بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے ایران کے خلاف حالیہ دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں کی جانب سے دی جانے والی ایسی دھمکیاں دراصل ایران کی بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت کا اعتراف ہیں۔ اگر ایران کمزور ہوتا تو اس طرح کے بیانات کی ضرورت پیش نہ آتی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی میزائل پاور اور دفاعی صلاحیت نے مخالفین کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایرانی میزائل حملوں سے اسرائیلی فوجی اور معاشی تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا، جسے بین الاقوامی مبصرین نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ ایرانی ماہرین کا کہنا ہے کہ انہی حملوں کے بعد امریکا نے 24 جون کو جنگ بندی کے اعلان میں کردار ادا کیا۔

ایران کے اعلیٰ حکام اور فوجی کمانڈرز پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر امریکا نے براہِ راست حملے کا فیصلہ کیا تو خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ موجودہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ایران مستقبل میں کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے خود کو پہلے سے زیادہ تیار تصور کرتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں