ایران میں خواتین کو باضابطہ طور پر موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے اور وہ قانونی طور پر موٹر سائیکل لائسنس حاصل کر سکیں گی، اس اقدام سے ملک میں خواتین کے لیے موٹر سائیکل چلانے کے حوالے سے برسوں سے موجود قانونی ابہام ختم ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے قبل قانون میں خواتین کے موٹر سائیکل یا اسکوٹر چلانے پر واضح پابندی موجود نہیں تھی، تاہم عملی طور پر حکام خواتین کو لائسنس جاری کرنے سے انکار کرتے رہے، اس قانونی خلا کی وجہ سے حادثات کی صورت میں خواتین کو قانونی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے گزشتہ روز ایک قرارداد پر دستخط کیے، جو ایرانی کابینہ سے گزشتہ ماہ کے آخر میں منظور ہوئی تھی۔ اس قرارداد کا مقصد ٹریفک قوانین کو واضح اور خواتین کے لیے لائسنس کے حصول کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔
اس نئے قانون کے تحت ٹریفک پولیس اب پابند ہوگی کہ وہ خواتین درخواست گزاروں کو عملی تربیت فراہم کرے، امتحانات پولیس کی نگرانی میں لے اور انہیں موٹر سائیکل ڈرائیونگ لائسنس جاری کرے۔ اس اقدام سے نہ صرف خواتین کی نقل و حمل کے مواقع میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں روایتی اور قانونی پیچیدگیوں کو بھی دور کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ایران میں خواتین کی نقل و حمل کے حقوق میں ایک اہم سنگ میل ہے اور اس سے ملک میں خواتین کی معاشرتی اور اقتصادی آزادی کو بھی فروغ ملے گا۔