بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ دلائی لامہ کی سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چینی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی حکومت کی جانب سے جاری ایپسٹین فائلز میں دلائی لامہ کا نام شامل ہے۔
دلائی لامہ کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس دلائی لامہ کو ایپسٹین سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ دلائی لامہ نے نہ کبھی ایپسٹین سے ملاقات کی اور نہ ہی کسی کو ان کی جانب سے ایسی کسی ملاقات کی اجازت دی گئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے گزشتہ ماہ ایپسٹین کیس سے متعلق تین ملین سے زائد دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز جاری کی تھیں۔ ان فائلز میں دلائی لامہ کا نام 150 سے زائد مرتبہ آیا ہے، تاہم کہیں بھی ان کی جیفری ایپسٹین سے ملاقات یا براہِ راست رابطے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این نے دعویٰ کیا تھا کہ ایپسٹین فائلز میں ایک ای میل کا ذکر موجود ہے جس میں ایک نامعلوم شخص نے کسی تقریب میں دلائی لامہ کو دیکھنے کی بات کی تھی۔ تاہم اے ایف پی کے مطابق اس ای میل میں بھی دلائی لامہ اور ایپسٹین کے درمیان کسی ملاقات یا تعلق کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین کو 2008 میں نابالغ لڑکی سے جسم فروشی کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی جبکہ 2019 میں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کرتے ہوئے جیل میں ہلاک ہو گیا تھا۔ حالیہ فائلز کے اجرا کے بعد کئی عالمی شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں، تاہم محض کسی کا نام آ جانا کسی الزام یا جرم کا ثبوت نہیں سمجھا جاتا۔