ایران میں انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم معروف کارکن اور نوبیل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کو ایک مرتبہ پھر سخت عدالتی فیصلے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں انہیں ساڑھے 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب نرگس محمدی پہلے ہی مختلف الزامات کے تحت قید کاٹ رہی ہیں ۔ دوسری جانب عالمی برادری ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق نرگس محمدی فاؤنڈیشن نے تصدیق کی ہے کہ 53 سالہ نرگس محمدی کو خواتین کے حقوق کے لیے 3 دہائیوں پر محیط جدوجہد کے تناظر میں یہ نئی سزا سنائی گئی ہے۔
فاؤنڈیشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ نرگس محمدی نے حال ہی میں ایک ہفتے پر مشتمل بھوک ہڑتال ختم کی تھی، جس کے فوراً بعد انہوں نے جیل سے اپنے وکیل کو فون پر آگاہ کیا کہ انہیں ہفتے کے روز مزید قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق نرگس محمدی کو جن الزامات میں سزا سنائی گئی ہے ان میں اجتماع اور قومی سلامتی کے خلاف سازش کے الزام میں 6 سال قید جب کہ حکومت مخالف پروپیگنڈے کے الزام میں ڈیڑھ سال قید شامل ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے انہیں ایرانی شہر خوسف میں 2 سالہ اندرونی جلاوطنی اور 2 سال کے لیے بیرون ملک سفر پر پابندی کی سزا بھی دی ہے، جس سے ان کی آزادی مزید محدود ہو گئی ہے۔
نرگس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ سزا سنائے جانے سے قبل انہیں کئی ہفتوں تک قید تنہائی میں رکھا گیا اور ان کا بیرونی دنیا سے مکمل رابطہ منقطع رہا۔ فاؤنڈیشن کے مطابق سخت نگرانی اور پابندیوں کے باوجود نرگس محمدی نے مختصر فون کال کے ذریعے اپنے وکیل کو اپنی صورت حال سے آگاہ کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جیل میں ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ نرگس محمدی کو دسمبر میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے معروف وکیل خسرو علی کردی کی مشتبہ موت پر شدید ردعمل دیتے ہوئے حکام پر تنقید کی تھی۔ ایرانی پراسیکیوٹرز کے مطابق انہوں نے مشہد میں ایک یادگاری تقریب کے دوران اشتعال انگیز بیانات دیے اور عوام کو نعرے بازی پر اکسایا، جسے امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
نرگس محمدی اس وقت مشہد کی جیل میں قید ہیں اور انہیں 2023 میں نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔ اس وقت بھی وہ خواتین کے حقوق، اظہار رائے کی آزادی اور ایران میں سزائے موت کے خاتمے کے لیے آواز بلند کرنے کے سبب قید میں تھیں۔