ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

قومی اسمبلی میں فوج سے متعلق بیانات پر ہنگامہ، محمود اچکزئی اپنے مؤقف پر قائم، وزیر دفاع کی تنقید

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی کے فوج سے متعلق بیانات پر ایوان میں گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی، جہاں انہوں نے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اعلان کیا جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ان کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ وہ 1990 سے پارلیمنٹ کا حصہ رہے ہیں اور انہوں نے کبھی جذباتی یا غیر سنجیدہ گفتگو نہیں کی، جو الفاظ انہوں نے ادا کیے ہیں وہ ان پر قائم ہیں اور ان کے بیان کو غلط انداز میں نہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام قومیتوں کا مشترکہ ملک ہے اور ہر اکائی کو آبادی کے تناسب سے اپنے حقوق اور نمائندگی ملنی چاہیے، پشتونوں سمیت دیگر قومیتوں کو حق حکمرانی میں مناسب حصہ دیا جائے اور یہ مطالبہ کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئینی اور جمہوری اصولوں کے تحت کیا جا رہا ہے۔

اجلاس کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے محمود اچکزئی کو فوج کے حوالے سے گفتگو محدود رکھنے اور شہداء کی قربانیوں کا ذکر کرنے کی ہدایت کی۔

محمود اچکزئی نے مزید کہا کہ ان کی جماعت جمہوریت کے استحکام کی حامی ہے اور وہ جمہوریت کے خلاف کسی اقدام کی مخالفت کرتے رہیں گے، بعض پالیسیوں کے باعث پشتون علاقوں کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے اور اس حوالے سے سنجیدگی سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے افغان مہاجرین سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمانی کردار پر بھی سوال اٹھائے، تاہم انہوں نے آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرنے والی فوج کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کے بیان پر سخت ردعمل دیا، محمود اچکزئی کی جانب سے فوج کے بارے میں دیا گیا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے اور اس کی توقع ایک سینئر پارلیمنٹیرین سے نہیں کی جا سکتی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی فوج کسی مخصوص علاقے یا صوبے کی نہیں بلکہ پورے ملک کی نمائندہ قومی فورس ہے اور ہر محب وطن شہری اس حقیقت سے آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کا تشخص قومی ہے اور اس پر بلاجواز الزامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں