میرٹھ، :بھارت میں مودی حکومت اور اس کے جنونی ہندو غنڈوں نے مسلمان شہریوں کا جینا حرام کر رکھا ہے،تازہ واقعے میں ایک مسلمان نوجوان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
بھارت ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے برہمپوری تھانہ علاقے کے ایک ریستوران میں ایک جوڑے کے ساتھ بدتمیزی کی۔
جوڑے نے احتجاج کیا تو کارکنوں نے نوجوان کو بے دردی سے مارا۔ تشدد کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔
اس واقعے میں دو برادریاں شامل تھیں، جس سے شہر میں کشیدگی پھیل گئی تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔
بتایا گیا کہ برہما پوری تھانہ علاقہ کے شاردا روڈ پر ایک ریسٹورنٹ میں ایک نوجوان اور عورت کھانا کھانے پہنچے تھے۔
عورت ایک مسلم نوجوان کے ساتھ تھی، اس کی اطلاع ملتے ہی بجرنگ دل کے کئی کارکن ریستوران پہنچے اور ہنگامہ شروع کر دیا۔
بجرنگ دل کے کارکنوں کی اس حرکت سے ریستوران میں افراتفری مچ گئی، ہندو مسلم واقعہ کی وجہ سے جائے وقوعہ پر ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیا۔
تاہم اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کرتے ہوئے نوجوان اور خاتون کو کارکنوں کے چنگل سے بچا لیا۔
حملے میں زخمی مسلم نوجوان کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔سی او برہمپوری سومیا استھانہ نے بتایا کہ پولیس کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور پتہ چلا کہ نوجوان اور عورت پر حملہ کیا گیا ہے۔
نوجوان اور خاتون کو مشتعل افراد کے چنگل سے چھڑا کر تھانے لے جایا گیا، جہاں حملہ میں زخمی نوجوان کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
چونکہ اس واقعے میں ہندو مسلم 2 کمیونٹیز ملوث ہیں، اس لیے علاقے میں امن برقرار رکھنے کے لیے گشت بڑھا دیا گیا ہے۔