ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بنگلادیش انتخابات: بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ 212 نشستیں جیتنے میں کامیاب

بنگلا دیش کے الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز ملک بھر میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق طارق رحمان کی قیادت میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے دو تہائی اکثریت حاصل کر کے واضح کامیابی حاصل کر لی ہے۔

الیکشن کمیشن بنگلادیش کی جانب سے جاری کردہ حتمی اعداد و شمار کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے 212 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کی جبکہ جماعت اسلامی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عمل مجموعی طور پر پرامن رہا اور ووٹرز کی بڑی تعداد نے حقِ رائے دہی استعمال کیا، نتائج کے مطابق سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور بی این پی کے نامزد وزیراعظم طارق رحمان کی جماعت نے ملک بھر میں بھرپور عوامی حمایت حاصل کی۔

تاہم طارق رحمان کی جانب سے انتخابی نتائج پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا جبکہ بی این پی قیادت نے کارکنان اور عوام سے جشن منانے کے بجائے سجدہ شکر ادا کرنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

ادھر سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) توقعات کے برعکس خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی اور 30 میں سے صرف 5 نشستیں جیت پائی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج ملکی سیاست میں ایک نئی صف بندی اور طاقت کے توازن میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

دوسری جانب جماعت اسلامی نے بعض حلقوں میں انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کیے ہیں اور احتجاج کا عندیہ بھی دیا ہے۔

جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ نتائج کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، تاہم ساتھ ہی جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی کہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے سیاست برائے سیاست کے بجائے تعمیری اور مثبت کردار ادا کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 300 نشستوں پر مشتمل بنگلادیش کی قومی اسمبلی (جاتیا سنگساد) کے 299 حلقوں میں انتخابات منعقد ہوئے جبکہ ایک حلقے میں جماعت اسلامی کے امیدوار کے انتقال کے باعث پولنگ ملتوی کر دی گئی تھی، ان انتخابات کے نتائج کو بنگلادیش کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جو آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کی سمت کا تعین کریں گے۔

اس انتخابی عمل کا انعقاد 2024 میں ملک گیر حکومت مخالف تحریک کے بعد پہلی مرتبہ کیا گیا، جن کے اثرات نے سیاسی منظرنامے میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کیں اور دو دہائیوں تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا اختتام ہوا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں