ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

چھاترو واقعہ: ضلع ہسپتال کشتواڑ کاصفائی کارکن برطرف

عاصف بٹ
کشتواڑ/چھاترو میں کمسن بچی کے ساتھ پیش آنے والے سنگین واقعے کے سلسلے میں پولیس کی کارروائی کے بعد ضلع ہسپتال کشتواڑ کی انتظامیہ نے اہم انتظامی اقدام اٹھاتے ہوئے اسپتال کے ایچ ڈی ایف سینیٹیشن ورکر فاروق احمد ولد ثنااللہ، ساکن سنگرام بھاٹہ کشتواڑ، کی خدمات فوری اثر سے ختم کر دی ہیں۔ضلع ہسپتال کشتواڑ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے26 اگست 2026کو جاری کیے گئے حکم نامے، زیر نمبرMS/DHK/1049-55کے مطابق فاروق احمد کو اسی روز پولیس اسٹیشن چھاترو کی جانب سے ایف آئی آر نمبر 34/2026کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔حکم نامے کے مطابق مذکورہ ایف آئی آر میں بی این ایس کی دفعات 61(1)، 65(2)، 90، 91 اور 92کے علاوہ پوکسو ایکٹ کی دفعات 4، 6، 8، 10 اور 17 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ضلع ہسپتال انتظامیہ کو پولیس اسٹیشن چھاترو کے ایس ایچ او کی جانب سے وائرلیس سگنل نمبر 868/PSC مورخہ 26 اگست 2026کے ذریعے فاروق احمد کی گرفتاری سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا۔پولیس کی جانب سے گرفتاری کی اطلاع موصول ہونے کے بعد اسپتال انتظامیہ نے معاملے کا جائزہ لیا اور زیرِ تفتیش الزامات کی سنگینی کے پیش نظر مذکورہ ملازم کی خدمات جاری رکھنا ادارے کے نظم و ضبط، سالمیت، ساکھ اور معمول کے انتظامی امور کے لیے ناموزوں قرار دیا۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملازم کے خلاف زیرِ تفتیش الزامات اور مبینہ جرائم کی نوعیت انتہائی سنگین ہے، جس کے باعث اس کی خدمات جاری رکھنا ایک سرکاری صحت کے ادارے کے نظم و ضبط اور وقار سے مطابقت نہیں رکھتا۔اسی بنیاد پر ضلع ہسپتال انتظامیہ نے فاروق احمد کی خدمات کو’’فوری اثر سے ختم‘‘کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکم نامے کی نقول اطلاع اور ضروری کارروائی کے لیے ضلع ترقیاتی کمشنر کشتواڑ، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں، ایس ایس پی کشتواڑ، چیف میڈیکل آفیسر کشتواڑاور پولیس اسٹیشن کشتواڑ و چھاترو کے اسٹیشن ہاؤس افسران کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔واضح رہے کہ معاملہ پولیس تفتیش کے مرحلے میں ہے اور ایف آئی آر میں عائد الزامات کی حتمی تصدیق عدالت میں قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوگی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں