لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کا دہلی-این سی آر میں ایک نوعمر لڑکی کے ساتھ سلیپر بس میں مبینہ عصمت دری کے معاملہ پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’دہلی-این سی آر خواتین کے لیے اس قدر غیرمحفوظ ہو چکا ہے کہ گریٹر نوائیڈا سے دہلی تک ایک نابالغ بچی کے ساتھ ایک سلیپر بس میں 47 کلومیٹر تک اجتماعی عصمت دری ہوئی۔‘‘
راہل گاندھی اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’حیرانی کی بات ہے کہ پوری دہلی یا نوئیڈا پولیس کو اس کی بھنک تک نہیں لگی۔ یہ بس گریٹر نوئیڈا ایکسپریس وے، دہلی کا رنگ روڈ اور بارڈر سب پار کر گئی، لیکن اسے ایک بھی چیک پوسٹ پر نہیں روکا گیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’بس کی سیٹوں پر پردے لگے تھے، تاکہ اندر کیا ہو رہا ہے کوئی دیکھ نہ سکے اور مجرموں میں انتظامیہ کا کوئی خوف بھی نہیں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں :
کانگریس لیڈر نے یہ بھی لکھا کہ ’’ نربھیا واقعے کے بعد اتنے سال گزر جانے اور اتنے واقعات پیش آنے کے باوجود ایسی بسوں کی جانچ اور نگرانی سے متعلق قواعد پر عمل کیوں نہیں کیا جا رہا؟‘‘ ان کے مطابق پردے صرف بسوں میں نہیں ڈالے گئے تھے، سال بہ سال حکومت کے ذریعہ انتظامیہ کی ناکامیوں پر ڈالے گئے پردوں کا نتیجہ ہے کہ ملک کی راجدھانی میں بھی خواتین ایک محفوظ سفر نہیں کر سکتیں۔
حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے سوال پوچھا کہ ’’اور کتنی خواتین اور بچیوں کے ساتھ ایسا ہونا باقی ہے، تب جا کر مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس نظام کو درست کریں گی؟ کیا امت شاہ کے ماتحت دہلی پولیس اور آدتیہ ناتھ کے ماتحت یوپی پولیس کی جوابدہی طے کی جائے گی؟ کوئی گنجائش نہیں ہے، اس جرم پر بھی ایک پردہ ڈال دیا جائے گا۔‘‘