ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے مناسب وقت کیا ہے؟ عمر عبداللہ کا مرکز سے سوال

سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکز سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے واضح ٹائم لائن بتانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’’جلد از جلد‘‘ سے آخر کیا مراد ہے اور مرکز کے نزدیک ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے ’’مناسب وقت‘‘ کب آئے گا۔ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد پر قانون ساز اسمبلی میں بحث کے دوران عمر عبداللہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی کو سکیورٹی صورتحال یا ملی ٹنسی سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسی شرط عائد کرنے کا مطلب بالواسطہ طور پر یہ فیصلہ پاکستان کے ہاتھ میں دینا ہوگا۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’میں ہر ممکن فورم پر مرکز سے پوچھتا ہوں کہ ریاستی حیثیت کے لیے مناسب وقت کیا ہے؟‘‘انہوں نے کہا کہ اگر مرکز کا موقف یہ ہے کہ ملی ٹنسی کے خاتمے تک ریاستی حیثیت بحال نہیں کی جاسکتی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس فیصلے کا اختیار مکمل طور پر نئی دہلی کے پاس نہیں رہے گا۔انہوں نے کہا، ’’اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ جب تک ملی ٹنسی ختم نہیں ہوتی، ریاستی حیثیت بحال نہیں ہوگی، تو آپ دراصل یہ کہہ رہے ہیں کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کا فیصلہ نئی دہلی میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں ہوگا۔‘‘
پاکستان کے ملی ٹنسی میں کردار اور اُڑی و پلوامہ جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ کیا ریاستی حیثیت کی بحالی کو بالآخر پاکستان کی جانب سے تشدد ختم کرنے سے مشروط کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’کیا آپ یہ فیصلہ پاکستان پر چھوڑ رہے ہیں؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ بندوق چلانا بند کریں گے اور پھر آپ ہمیں ریاست دیں گے۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کا فیصلہ نئی دہلی کے اختیار میں ہے، تو پھر مرکز کی جانب سے اس کے ساتھ شرائط منسلک کرنے کی کیا وجہ ہے۔انہوں نے کہا، ’’اگر آپ نے پہلے ہی فیصلہ کرلیا ہے کہ آپ کے وزیراعظم کی مدتِ کار کے دوران ہمیں ریاستی حیثیت نہیں دی جائے گی تو یہ انتہائی افسوس کی بات ہے۔‘‘
وزیراعلیٰ نے ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کے الفاظ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسے سوچ سمجھ کر اس انداز میں تیار کیا گیا تھا تاکہ اس میں ایسی کوئی بات شامل نہ ہو جسے ایوان میں خلل ڈالنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے جان بوجھ کر آرٹیکل 370، آرٹیکل 35A اور خصوصی حیثیت کے معاملے کو قرارداد سے باہر رکھا ہے۔عمر عبداللہ نے کہا، ’’قرارداد پڑھیں اور بتائیں کہ ہم نے 370، 35A یا خصوصی حیثیت پر ووٹ مانگا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ان کے بعض ساتھیوں نے ایسی ترامیم پیش کیں جن کے ذریعے ان معاملات کو قرارداد میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے ایوان میں کارروائی میں خلل ڈالنے کا موقع مل سکتا تھا۔انہوں نے کہا، ’’میرے ساتھی اس جال میں پھنس گئے ہیں۔ جب وہ 370 اور 35A کو اس میں شامل کرتے ہیں تو وہ انہیں موقع فراہم کرتے ہیں۔‘‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسمبلی اس سے قبل بھی خصوصی حیثیت سے متعلق قراردادیں منظور کرچکی ہے، جن میں ایک قرارداد سال 2000 میں فاروق عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے دوران منظور کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مطالبہ بالکل واضح ہے کہ جموں و کشمیر کو وہ آئینی اور سیاسی حیثیت واپس دی جائے جو تنظیم نو سے قبل اسے حاصل تھی۔عمر عبداللہ نے کہا، ’’ہم مرکز سے صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں وہ حیثیت واپس دیں جو ہمارے پاس تھی اور دوسروں کے پاس نہیں تھی۔ ہم مرکز سے صرف اتنا ہی مطالبہ کر رہے ہیں۔‘‘
وزیراعلیٰ نے اس دلیل کو مسترد کیا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی سیاسی جماعتوں کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی فرد یا سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ایسا نہیں ہے کہ ریاست میری، میرے خاندان یا کسی سیاسی جماعت کی ہے۔ یہ عوام کی ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ مکمل ریاستی حیثیت نہ ہونے کا اثر منتخب حکومت کے کام کاج اور روزمرہ انتظامی امور پر پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہر روز کہیں نہ کہیں اس کا اثر پڑتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ریاستی حیثیت نہیں ہے۔‘‘
وزیراعلیٰ نے یونین ٹیریٹری نظام کے تحت منتخب حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر بھی سوال اٹھایا۔انہوں نے پوچھا کہ محکمہ ریونیو کو منتخب حکومت کے دائرۂ اختیار سے باہر کیوں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یونین ٹیریٹری میں سکیورٹی اور امن و قانون ان کے پاس ہے جبکہ باقی ہمارے پاس ہے۔ پھر محکمہ ریونیو کو ہمارے دائرۂ اختیار سے باہر کیوں رکھا گیا ہے؟‘‘
عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کا بھی حوالہ دیا اور سوال کیا کہ اس کا سکیورٹی یا امن و قانون سے کیا تعلق ہے۔انہوں نے IUST اور بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی سمیت جامعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کے چانسلر کی حیثیت سے کام کرنے کے دوران وزیراعلیٰ کے کردار کو محدود کیوں کیا گیا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت نے تقریباً دو سال قبل اپنے بزنس رولز مرکز کو بھیجے تھے، لیکن ابھی تک ان کی منظوری کا انتظار ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے تقریباً دو سال پہلے بزنس رولز مرکز کو بھیجے تھے۔ انہیں اب تک منظور نہیں کیا گیا۔‘‘ان کے مطابق اس تاخیر کی وجہ سے یونین ٹیریٹری نظام کے تحت انتظامی اختیارات کی تقسیم اور ان کے استعمال کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے کہا کہ منتخب حکومت کو قائم ہوئے تقریباً دو سال ہوچکے ہیں، لیکن جموں و کشمیر میں اب بھی ایڈووکیٹ جنرل موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہماری حکومت بنے تقریباً دو سال ہوچکے ہیں، لیکن جموں و کشمیر میں اب بھی ایڈووکیٹ جنرل نہیں ہے۔‘‘عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت پہلے ہی اپنی تجویز پیش کرچکی ہے اور کابینہ سے منظوری کے بعد معاملہ غور کے لیے آگے بھیجا جاچکا ہے، اس کے باوجود تقرری کیوں نہیں ہوسکی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ منتخب حکومت کو درپیش مسائل براہِ راست جموں و کشمیر کی یونین ٹیریٹری حیثیت کا نتیجہ ہیں۔انہوں نے کہا، ’’بتائیں، کس ریاست میں ایسا ہوتا ہے؟ وزیراعلیٰ ایک قرارداد پیش کرتا ہے اور قانون سیکریٹری اس پر رائے دیتا ہے۔ یہ صرف یونین ٹیریٹری میں ہوسکتا ہے۔‘‘انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ منتخب حکومت سے متعلق قانونی رائے سیاسی انتظامیہ سے مناسب مشاورت کے بغیر کیوں جاری کی جاتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ایک موقع پر بحیثیت وزیراعلیٰ اور وزیر قانون انہیں خود محکمہ قانون کی رائے کا علم نہیں تھا، جبکہ متعلقہ معاملہ کسی اور جگہ پہنچ چکا تھا۔انہوں نے کہا، ’’بطور وزیر قانون اور وزیراعلیٰ مجھے معلوم نہیں، لیکن آپ کو خط موصول ہوچکا ہے۔ یہ یونین ٹیریٹری ہونے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔‘‘
وزیراعلیٰ نے جموں و کشمیر کے تاریخی آئینی ڈھانچے کا حوالہ دیتے ہوئے مہاراجہ ہری سنگھ اور ریاستی باشندوں سے متعلق آئینی انتظامات کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق ریاست جموں و کشمیر سے متعلق آئینی اور قانونی ڈھانچے میں بعد ازاں تنظیم نو کے بعد تبدیلیاں کی گئیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت نے متعدد معاملات پر کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، تاہم ان کی رپورٹس کا ابھی انتظار ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں ذلیل کیا گیا ہے۔ ہم اس کا حساب چاہتے ہیں۔ ہم اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘‘
وزیراعلیٰ نے مرکز سے ریاستی حیثیت بحال کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اپنا موقف واضح کرچکی ہے۔انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی مرکز سے ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں