سری نگر/جموں و کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے بڈگام ضلع کے یوسمرگ کے بالائی علاقوں میں ایک تصادم آرائی کے دوران کالعدم ملی ٹینٹ تنظیم لشکر طیبہ کے ایک پاکستانی ملی ٹینٹ کو مار گرایا ہے۔حکام نے یہ اطلاع دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملی ٹینٹ کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے طور پر ہوئی ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق موسیٰ رواں ماہ کے آغاز میں بڈگام میں ایک مڈبھیڑ کے دوران مبینہ طور پر فرار ہو گیا تھا اور بعد میں سکیورٹی فورسز نے وسطی کشمیر کے پہاڑی جنگلات میں بڑے پیمانے پر تلاش کے بعد اس کا سراغ لگایا۔
یہ مڈبھیڑ منگل کی شام یوسمرگ کے کوراگ علاقے میں اس وقت شروع ہوئی، جب فوج، جموں و کشمیر پولیس اور مرکزی ریزرو پولیس فورس نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر مشترکہ تلاشی مہم شروع کی۔سری نگر میں قائم فوج کی چنار کور نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’چوکس فوجیوں نے کچھ مشتبہ نقل و حرکت دیکھی اور جب انہیں للکارا گیا تو ملی ٹینٹوں نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ ہوئی، جس میں ایک ملی ٹینٹ مارا گیا۔ کارروائی جاری ہے۔‘‘
فوج نے اس کے بعد ایک بیان میں کہا کہ بدھ کی صبح پال میدان علاقے میں تلاشی مہم کے دوران پاکستان کے لشکر طیبہ کے ملی ٹینٹ کی لاش ملی، جس کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے طور پر ہوئی۔ اس کے ساتھ ہتھیار بھی ملے۔ سکیورٹی حکام نے بتایا کہ موسیٰ گزشتہ 4 ستمبر کو بڈگام کے اونچائی والے اشدر گلی علاقے میں ہوئی مڈبھیڑ کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا، جہاں اس کا ساتھی اور ایک اور پاکستانی لشکر طیبہ کا ملی ٹینٹ یاسر مارا گیا تھا۔
حکام کے مطابق یاسر اور موسیٰ پونچھ علاقے سے کشمیر میں داخل ہو رہے تھے، اسی دوران سکیورٹی فورسز نے انہیں روک لیا، جس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔ اس فائرنگ میں یاسر مارا گیا، جبکہ موسیٰ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔انہوں نے بتایا کہ یاسر اور موسیٰ 2024 سے وسطی کشمیر اور پیر پنجال علاقے کے گھنے جنگلات میں ایک ساتھ سرگرم تھے۔ موسیٰ لشکر طیبہ گروپ کا واحد باقی بچا ہوا سرگرم ملی ٹینٹ تھا، جس پر جموں و کشمیر کے علاقوں میں کئی جان لیوا حملوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ تنظیم نے پہلے پیر پنجال علاقے میں سرگرمیاں جاری رکھی تھیں، پھر 2024 میں اپنا اڈہ کشمیر وادی کی جانب منتقل کر دیا اور 2 گروپوں میں تقسیم ہو گئی۔ انہوں نے یاسر کو تنظیم کے سینئر کمانڈر سلیمان شاہ کا ایک اہم ساتھی بتایا تھا، جو جولائی 2025 میں سری نگر کے مضافاتی علاقے کے جنگلات میں ایک کارروائی کے دوران 2 دیگرملی ٹینٹوں کے ساتھ مارا گیا تھا۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بعد میں لوک سبھا کو بتایا کہ اس کارروائی میں مارے گئے 3 ملی ٹینٹ پہلگام حملے میں شامل تھے، جس میں 25 سیاح اور ایک مقامی باشندہ مارے گئے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ اس ماہ کے آغاز میں یاسر کے مارے جانے اور اب موسیٰ کے مارے جانے کے بعد، یہ دونوں وسطی کشمیر کو پیر پنجال علاقے سے جوڑنے والے اونچائی والے جنگلات میں سرگرم گروپ کے آخری فعال دہشت گردوں میں شامل تھے۔
گزشتہ 4 ستمبر کی مڈبھیڑ کے بعد سکیورٹی فورسز نے باقی بچے ملی ٹینٹوں کی سرگرمیوں کا سراغ لگانے کے لیے پہاڑی علاقوں میں تلاشی مہم تیز کر دی تھی۔حکام نے کہا کہ علاقے میں ایک اور ملی ٹینٹ کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج کے خصوصی دستوں کے جوانوں سمیت مزید فورسز کو اونچائی والے علاقوں میں تعینات کیا گیا۔