ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

چین کب تک مریخ کا نقشہ مکمل کر لے گا؟

بیجنگ: چین مریخ کا نیا تفصیلی ارضیاتی نقشہ تیار کر رہا ہے، جس میں مریخ کی سطح، چٹانوں، مٹی، پہاڑوں، وادیوں اور دوسری ارضیاتی خصوصیات کا تفصیلی نقشہ بنایا جائے گا۔

شنہوا نیوز کے مطابق یہ نقشہ 2028 کے اختتام تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے، چین کا ہدف ہے کہ دسمبر 2028 تک یہ کام مکمل ہو جائے، اس منصوبے کا ایک مقصد مریخ کے ماضی کے پانی کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے۔

سائنس دان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مریخ پر ماضی میں پانی کہاں موجود تھا، اس کی مقدار کتنی تھی اور وہ کس طرح تبدیل یا ختم ہوا۔ اس نقشے کی مدد سے مریخ کی قدیم تاریخ کو دوبارہ سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔ مریخ کی سطح پر موجود چٹانوں اور ارضیاتی نشانات سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ مختلف ادوار میں وہاں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

چین مریخ کے ارضیاتی ادوار کی اپنی تقسیم یعنی چینی نظام بھی پیش کرنا چاہتا ہے، چین یہ طے کرنے کے لیے ایک باقاعدہ نظام پیش کرے گا کہ مریخ کی تاریخ کو مختلف ارضیاتی ادوار میں کس طرح تقسیم کیا جائے۔

اس منصوبے کا انکشاف چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر تعلیم اور تیان وین-3 مریخ سے نمونے واپس لانے کے مشن کے چیف سائنس دان ہو زنگ چھیان نے چائنیز اکیڈمی آف جیولوجیکل سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف جیولوجی میں منعقدہ ایک سیمپوزیم کے دوران کیا۔

نیا نقشہ اور مریخ پر سمندر


چین کی جانب سے 2021 میں تیان وین-1 مشن کے تحت مریخ پر اتاری گئی خلائی گاڑی ژو رونگ نے مریخ کی آبی تاریخ کے بارے میں نئے شواہد فراہم کیے ہیں۔

ان شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً 3.5 ارب سال پہلے بھی مریخ پر ایک وسیع قدیم سمندر موجود تھا، جب کہ ممکنہ طور پر 1.6 ارب سال پہلے قلیل مدتی سیلاب بھی آئے تھے۔ یہ دریافتیں مریخ کی قدیم آب و ہوا کے ارتقا کے بارے میں شواہد کے سلسلے میں موجود خلا کو پُر کرنے میں مدد دیتی ہیں اور انھیں نئے نقشے میں شامل کیا جائے گا۔

اسی بنیاد پر نیا نقشہ مریخ کے ارضیاتی ادوار کی تقسیم کے لیے چین کا ایک نیا نظام پیش کرے گا۔ موجودہ نظام مریخ کے ارضیاتی دور کو نواچھیان، ہیسپیرین اور ایمیزونین ادوار میں تقسیم کرتا ہے، جن کا تعین قطعی تاریخوں کی بہ جائے سطح پر دکھائی دینے والے گڑھوں کی کثافت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

ہو کے مطابق چین کا مقصد اپنے نئے نظام کو بین الاقوامی اتفاق رائے کا حصہ بنانا ہے۔ اس منصوبے میں بنیادی طور پر تیان وین-1 سے حاصل شدہ ڈیٹا استعمال کیا جائے گا، جب کہ امریکی اور یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) کے مریخ کے تحقیقاتی مشنز سے حاصل کردہ ڈیٹا بھی معاونت کے لیے شامل کیا جائے گا، جس سے مدار اور سطح سے حاصل شدہ معلومات کو یک جا کرنا ممکن ہوگا۔

تصاویر، سپیکٹرل ڈیٹا، ریڈار، کشش ثقل اور مقناطیسی پیمائشوں کو یک جا کر کے ایک عالمی ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا، جس میں مریخ کے متعدد طبعی میدانوں کو باہم مربوط کیا جائے گا۔

مریخ سے ملنے والے وسیع ڈیٹا کو سمجھنے اور اس کی تشریح کرنے میں مصنوعی ذہانت سے مدد لی جائے گی، یعنی AI بڑی مقدار میں موجود معلومات کو تیزی سے پڑھے گی، ان میں موجود نمونوں کو تلاش کرے گی اور ارضیاتی خصوصیات کی شناخت میں مدد دے گی۔ صرف AI پر انحصار نہیں کیا جائے گا بلکہ ماہرینِ ارضیات جو تجربہ اور اصول استعمال کرتے ہیں، انھیں بھی اے آئی کے نظام میں شامل کیا جائے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں