ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جج اسٹنٹ ڈلوا کر اگلے دن آسکتا ہے تو وکیل کیوں نہیں؟ جسٹس گلزار

اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ کے جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ کیا ججوں اور وکلا کو ڈالے جانے والے اسٹنٹ
میں فرق ہوتا ہے؟ ججوں کو ایک دن اسٹنٹ ڈلتا ہے اور وہ اگلے دن عدالت میں ہوتے ہیں، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسٹنٹ ڈالوا کر ایک دن آرام کیا اور اگلے دن عدالت میں آگئے، وکیل کو اسٹنٹ پڑجائیں تو 3، 3 ہفتے التوا لیتے رہتے ہیں۔ یہ ریمارکس انہوں نے ملازمت سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے دیے جہاں وکیل محمد آفتاب عالم رانا کے جونیئر وکیل کی طرف سے التوا کی درخواست دیتے ہوئے استدعا کی گئی کہ آفتاب عالم رانا علیل ہیں، انہیں کچھ دنوں میں مزید اسٹنٹ ڈالے جائیں گے۔عدالت نے وکیل صفائی کی طرف سے التوا کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کردی۔
جسٹس گلزار

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں