ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

لیبیا اور ترکی میں سمندری نگرانی و فوجی تعاون کے سمجھوتے

استنبول: لیبیا کے وزیراعظم فائز السراج ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کررہے ہیں

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی نے لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ سمندری نگرانی اور فوجی تعاون کے 2 سمجھوتے طے کرلیے۔ سمجھوتوں کے تحت طرابلس اور انقرہ کی حکومتیں دو طرفہ فوجی تعاون میں اضافہ کریں گی اور سمندری سرحدی نگرانی کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ خبررساں اداروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے سمجھوتوں سے بحیرہ روم کے ممالک میں تناؤ پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ مخالفین کا الزام ہے کہ ترکی شمالی افریقی ممالک کے ساتھ اپنے روابط کو مستحکم کر کے توانائی کے ذخائر تک پہنچنے کی کوشش میں ہے۔ ترکی کے سرکاری اخبار صباح نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سمجھوتا طے ہونے انقرہ حکومت کی سمندری سرحد جنوب مغرب تک وسیع ہوگئی ہے۔ اس کے رد عمل میں یونان کے وزیرخارجہ نکوس ڈینڈیاس نے شدید مذمت کی۔ ترکی بحیرئہ روم میں شمالی قبرص کی حدود میں تیل تلاش کررہا ہے،جس کے باعث کئی ممالک انقرہ سے ناراض ہیں۔ طرابلس کے ساتھ ہونے والا سمجھوتا اس لیے بھی اہم ہے کہ لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے وزیراعظم فائز سراج کو 8 ماہ سے داخلی انتشار کے باعث عالمی حمایت کی اشد ضرورت تھی۔ رواں برس اپریل سے باغی جنرل خلیفہ حفتر کی ملیشیا نے دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کرنے کے لیے چڑھائی کر رکھی ہے۔ خلیفہ حفتر کا کہنا ہے کہ ترکی لیبی حکومت کی عسکری مدد کررہا ہے،جس کے باعث اب تک طرابلس پر قبضہ نہیں ہوسکا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں