ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ڈیٹا پروٹیکشن قانون نہ بنانے پر عدالت وفاقی حکومت پر برہم

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے ڈیٹا فروخت کرنے کے کیس میں متعلقہ اداروں سے جواب طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس محمد علی مظہر نے ڈیٹا فروخت کیس کی سماعت کی جس میں ڈپٹی اٹارنی جنرل بھی پیش ہوئے۔

عدالت ڈیٹا پروٹیکشن قانون سازی نہ کرنے پر وفاقی حکومت پر برہم ہوگئی۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ دنیا بھر میں قانون موجود تو ہمارے پاس کیوں نہیں؟ اگر ڈیٹا فروخت ہوگیا تو پھر کیا کریں گے؟

انہوں نے کہا کہ یہ قومی مفاد کی بات ہے۔ فوری اقدام کیے جائیں۔

درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ حساس ڈیٹا 35 کروڑ روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قانون سازی کا ڈرافٹ تیار ہے۔ ڈرافٹ وزارت قانون کو ارسال کردیا۔

عدالت نے کہا کہ وفاقی اداروں سے تحریری جواب لے کر جمع کرائیں۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل، سیکریٹری ٹیلی کمیونیکیشن اور وزارت قانون کو جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں