نئی دہلی(القمرآن لائن): اتر پردیش کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اساتذہ، سبکدوش اساتذہ اوردیگر ملازمین کی کووڈ 19 اور اس کے آثار سے ہونے والی اموات سے فکرمند وی سی پروفیسرطارق منصور نے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل کو خط لکھ کر یونیورسٹی اور اس کے آس پاس کے ماحول میں وائرس کی اقسام کی جانچ کرانے کی گزارش کی ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں34 لوگوں کی موت ہوئی ہے، جن میں اس وقت ورکنگ اساتذہ اور ریٹائر ہو چکے ملازمین بھی شامل ہیں۔
اتوار کو آئی سی ایم آر کیڈائریکٹر جنرل کو بھیجے گئے خط میں وی سی پروفیسر منصور نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اے ایم یو کیمپس اور آس پاس کے علاقوں میں کورونا وائرس کے ایک اسپیشل ویرینٹ سے ہونے والے انفیکشن کی وجہ سے موتیں ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جواہرلعل نہرو میڈیکل کالج میں مائیکروبیالوجی لیب جو کہ کووڈ سے معنون لیب ہے، اس شہر میں پائے جانے والے ویرینٹ کے وائرل جینوم تسلسل کو ٹریس کرنے کے لییانسٹی ٹیوٹ آف جینومک اینڈ انٹیگریٹڈ بیالوجی لیبارٹری، نئی دہلی کو نمونے بھیج رہا ہے۔
وی سی نے کہا کہ وائرس کے پھیلاکو کنٹرول کرنے میں یہ کارآمد ہوگا۔ انہوں نے خط میں یہ بھی کہا کہ پچھلے 18 دنوں میں کووڈ سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 16ورکنگ اور 18 ریٹائراساتذہ سمیت دیگر ملازمین کی موت ہوئی ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ میڈیسن کے سربراہ پروفیسر شاداب خان کی کورونا وائرس انفیکشن کی وجہ سے گزشتہ سات مئی کو موت ہو گئی تھی۔خان اے ایم یو کے 15ویں ٹیچر تھے، جن کی کورونا وائرس انفیکشن کی وجہ سے موت ہوئی۔القمرآن لائن کی رپورٹ کے مطابق، آٹھ مئی کو اے ایم یو کی لا فیکلٹی کے ڈین محمد شکیل احمد کا انتقال ہو گیا، جنہوں نے وہاں 12 سال پڑھایا تھا اور انہوں نے دو کتابیں بھی لکھی تھیں۔ اس میں سے ایک یونیفارم سو ل کوڈ پر تھی تو دوسری مسلم طلاق شدہ کے رکھ رکھاو پر تھی۔پچھلے کچھ دنوں میں اپنی جان گنوانے والے سینئر پروفیسروں میں شعبہ نفسیات کے چیئرمین ساجد علی خان بھی شامل تھے۔
اے ایم یو کے ایک افسر نے بتایا کہ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج اس وقت آکسیجن کے بحران سے جوجھ رہا ہے اور پچھلے 12دنوں سے اسپتال کو لگاتار کوشش کے باوجود باہر سے آکسیجن کا ایک بھی سلینڈر نہیں ملا۔القمرآن لائن کی رپورٹ کی مطابق، وہیں، دہلی یونیورسٹی کے تقریبا24 اساتذہ کی اس لہر میں جان جا چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کروڑی مل کالج کے دو اساتذہ کی جان جا چکی ہے۔دہلی یونیورسٹی کے اساتذہ تو اب ٹیچرز ویلفیئر فنڈ کو پھر سے شروع کرنے پر کام کر رہے ہیں، تاکہ جاں بحق عملے کے ارکان کے لواحقین کی مدد کی جا سکے اور اس میں اب ایڈہاک اساتذہ کو بھی شامل کیا جائیگا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مطابق،انفیکشن کی وجہ سے چار پروفیسروں سمیت اس کے 20 سے زیادہ ملازمین کی موت ہوئی ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ وہ کووڈ 19کی وجہ سیجان گنوانے والے ملازمین کے اہل خانہ کو جلداز جلد مالی امداد مہیا کرائیگا۔بتا دیں کہ اس سے پہلے اتر پردیش پرائمری اساتذہ ایسوسی ایشن نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور ریاستی الیکشن کمیشن کو خط بھیج کر پنچایت انتخاب میں ڈیوٹی کے دوران 706پرائمری اساتذہ اور بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ملازمین کی موت کی اطلاع دیتے ہوئے درخواست کی تھی کہ پنچایت انتخاب کی دو مئی کو ہونے والی رائے شماری ٹال دی جائے۔ حالانکہ، اس کوٹالا نہیں گیا تھا۔

اتوار کو آئی سی ایم آر کیڈائریکٹر جنرل کو بھیجے گئے خط میں وی سی پروفیسر منصور نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اے ایم یو کیمپس اور آس پاس کے علاقوں میں کورونا وائرس کے ایک اسپیشل ویرینٹ سے ہونے والے انفیکشن کی وجہ سے موتیں ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جواہرلعل نہرو میڈیکل کالج میں مائیکروبیالوجی لیب جو کہ کووڈ سے معنون لیب ہے، اس شہر میں پائے جانے والے ویرینٹ کے وائرل جینوم تسلسل کو ٹریس کرنے کے لییانسٹی ٹیوٹ آف جینومک اینڈ انٹیگریٹڈ بیالوجی لیبارٹری، نئی دہلی کو نمونے بھیج رہا ہے۔
وی سی نے کہا کہ وائرس کے پھیلاکو کنٹرول کرنے میں یہ کارآمد ہوگا۔ انہوں نے خط میں یہ بھی کہا کہ پچھلے 18 دنوں میں کووڈ سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 16ورکنگ اور 18 ریٹائراساتذہ سمیت دیگر ملازمین کی موت ہوئی ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ میڈیسن کے سربراہ پروفیسر شاداب خان کی کورونا وائرس انفیکشن کی وجہ سے گزشتہ سات مئی کو موت ہو گئی تھی۔خان اے ایم یو کے 15ویں ٹیچر تھے، جن کی کورونا وائرس انفیکشن کی وجہ سے موت ہوئی۔القمرآن لائن کی رپورٹ کے مطابق، آٹھ مئی کو اے ایم یو کی لا فیکلٹی کے ڈین محمد شکیل احمد کا انتقال ہو گیا، جنہوں نے وہاں 12 سال پڑھایا تھا اور انہوں نے دو کتابیں بھی لکھی تھیں۔ اس میں سے ایک یونیفارم سو ل کوڈ پر تھی تو دوسری مسلم طلاق شدہ کے رکھ رکھاو پر تھی۔پچھلے کچھ دنوں میں اپنی جان گنوانے والے سینئر پروفیسروں میں شعبہ نفسیات کے چیئرمین ساجد علی خان بھی شامل تھے۔
اے ایم یو کے ایک افسر نے بتایا کہ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج اس وقت آکسیجن کے بحران سے جوجھ رہا ہے اور پچھلے 12دنوں سے اسپتال کو لگاتار کوشش کے باوجود باہر سے آکسیجن کا ایک بھی سلینڈر نہیں ملا۔القمرآن لائن کی رپورٹ کی مطابق، وہیں، دہلی یونیورسٹی کے تقریبا24 اساتذہ کی اس لہر میں جان جا چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کروڑی مل کالج کے دو اساتذہ کی جان جا چکی ہے۔دہلی یونیورسٹی کے اساتذہ تو اب ٹیچرز ویلفیئر فنڈ کو پھر سے شروع کرنے پر کام کر رہے ہیں، تاکہ جاں بحق عملے کے ارکان کے لواحقین کی مدد کی جا سکے اور اس میں اب ایڈہاک اساتذہ کو بھی شامل کیا جائیگا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مطابق،انفیکشن کی وجہ سے چار پروفیسروں سمیت اس کے 20 سے زیادہ ملازمین کی موت ہوئی ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ وہ کووڈ 19کی وجہ سیجان گنوانے والے ملازمین کے اہل خانہ کو جلداز جلد مالی امداد مہیا کرائیگا۔بتا دیں کہ اس سے پہلے اتر پردیش پرائمری اساتذہ ایسوسی ایشن نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور ریاستی الیکشن کمیشن کو خط بھیج کر پنچایت انتخاب میں ڈیوٹی کے دوران 706پرائمری اساتذہ اور بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ملازمین کی موت کی اطلاع دیتے ہوئے درخواست کی تھی کہ پنچایت انتخاب کی دو مئی کو ہونے والی رائے شماری ٹال دی جائے۔ حالانکہ، اس کوٹالا نہیں گیا تھا۔