ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

لاہور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو سابق چیئرپرسن اوگرا کو گرفتار کرنے سے روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو سابق چیئرپرسن اوگرا کو گرفتار کرنے سے روک دیا، عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو 17 نومبر تک جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا،عظمی عادل خان کے وکیل بیرسٹر مومن ملک نے دلائل دیئے ہیں کہ ایف آئی اے کی جانب ہراساں کیا جا رہا ہے، مقدمات کی تفصیلات ہی نہیں دی جا رہیں، لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس امجد رفیق نے سابق چیئرپرسن اوگرا عظمی عادل کی درخواست پر تحریری عبوری فیصلہ جاری کر دیا، سابق چیئرپرسن اوگرا عظمی عادل خان نے بیرسٹر مومن ملک کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، درخواست میں وفاقی حکومت ،ایف آئی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ۔ عظمی عادل خان کی وکیل بیرسٹر مومن ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے ملک و قوم کی خدمت کی مگر اب ان کو بے بنیاد الزامات کے تحت ہراساں کیا جا رہا ہے، اوگرا آرڈیننس کے تحت درخواست گزار کو ہراساں نہیں کیا جا سکتا، عظمی عادل خان کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ ان کو کتنی مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔ بیرسٹر مومن ملک نے دلائل دیئے کہ درخواست گزار کا حق ہے کہ وہ متعلقہ عدالت سے رجوع کر سکے، عدالت ایف آئی اے کو درخواست گزار کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے اور مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔ لاہور ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو سابق چیئرپرسن اوگرا کو گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے وفاقی حکومت کے وکیل کو 17 نومبر تک جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں