
مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) نام نہاد اسرائیلی وزارتی کمیٹی برائے قانون سازی امور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کی اراضی پر آباد کاروں کی طرف سے حال ہی میں قائم کردہ اسرائیلی بستی کو قانونی حیثیت دینے کے ایک مسودہ قانون پر بحث کرے گی۔اسرائیلی چینل سیون نے آباد کاروں کی جانب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آبادکاری کا بل پیش کرنے والا انتہائی دائیں بازو کی مذہبی صہیونیت پارٹی سے تعلق رکھنے والی نام نہاد لینڈ آف اسرائیل لابی کا سربراہ ہے۔چینل نے اشارہ کیا کہ اسٹروک نے موجودہ اسرائیلی حکومت میں دائیں بازو کے وزرا اور دائیں بازو کی نیو ہوپ پارٹی کے سربراہ گیدون ساعر کو خطوط بھیجے ہیں، جن میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ یہودی بستیوں کو قانونی شکل دینے کے لیے اپنے انتخابی وعدوں پر عمل کریں۔ اپنے خطوط میں اس نے کہاہے کہ جیسا کہ آپ کو یاد ہے کہ وزیر اعظم نفتالی بینت نے کابینہ کے پہلے اجلاس میں یہودیہ اور سامریہ (مغربی کنارے) میں نوجوانوں کی بستیوں کو منظم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ وعدہ ابھی تک پورا ہونا باقی ہے۔ اسٹروک نے حکومتی وزرا سے بل کو منظور کرنے اور اس کے حق میں ووٹ دینے کا مطالبہ کیا۔ اس کالونی میں20ہزار آباد کار رہتے ہیں۔ دوسری جانب فلسطین میں اسرائیلی افواج کے دیگر مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ صہیونی فورسز نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے فلسطینیوں پر دھاوا بولا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی اور گولیاں بھی برسائیں۔ مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کے خلاف مظاہرہ کرتے شہریوں پر اسرائیلی فوج نے کئی افراد کو گرفتار بھی کیا۔ دوسری جانب اسرائیل قید سے فرار کے بعد دوبارہ گرفتار ہونے والے 6 فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال جاری ہے۔ قیدیوں نے اسرائیل کی غیر قانونی قید سے رہائی تک بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔