سکھر (نمائندہ جسارت) شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور میں انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر مظلوم کشمیری بھائیوں سے اظہارِ یکجہتی کیلیے امن واک انسٹیٹیوٹ سے برآمد ہوئی جو ایڈمنسٹریشن بلاک پر اختتام پذیر ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر خلیل احمد ابوپوٹو وائس چانسلر نے واک سے شرکا سے خطاب کیا۔ پروفیسر ڈاکٹرخلیل احمد ابوپوٹو نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کو ان کے قانونی حقِ خود ارادیت سے محروم رکھا جارہا ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کی ذمے داری ہے کہ وہ کشمیریوں کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کیلیے اقوامِ متحدہ کی جانب سے بہت ساری قراردادیں پیش کی گئیں ہیں لیکن اْن پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ ڈاکٹر خلیل ابوپوٹو نے اقوامِ متحدہ و دیگر عالمی فورمز پر کشمیریوں کا مقدمہ اٹھانے پر حکومتِ پاکستان کو سراہا۔ وائس چانسلر نے امن واک برآمد کرنے پر ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز اور انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈائریکٹر کو سراہا۔ پروفیسر ڈاکٹر تاج محمد لاشاری ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسزنے کہا کہ غاصب بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو اْن کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی ظلم وبربربیت جاری ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر امیر احمد کھوڑو نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کو سیاسی، معاشی، ثقافتی حقوق حاصل نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ کشمیری بھائیوں کو بھارت سے آزادی دلانے میں مدد کی جائے۔ انچارج شعبہ مطالعہ پاکستان ڈاکٹر عنایت اللہ بھٹی نے مسئلہ کشمیر کے تاریخی پسِ منظر پرروشنی ڈالی۔ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کیا اسسٹنٹ پروفیسر سرفراز علی کوریجو نے بھی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی میں صحت مند سرگرمیاں منعقد کروانے پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خلیل احمد ابوپوٹو کو سراہا۔ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کی بی ایس سال چہارم کی طالبہ شہر بانو سومرو نے کہا کہ کشمیر میں خواتین اور بچے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔ مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے خواتین اور بچوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ واک میں پروفیسر ڈاکٹر مشتاق علی جکھرانی، ڈاکٹر لیاقت علی چانڈیو، عشرت علی میرانی، مرید حسین ابوپوٹو رجسٹرار، علی رضا لاشاری اور طلبہ و طالبات نے کثیر تعدادمیں شرکت کی۔