ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق میانمر کی فوج نے بچوں اور عورتوں سمیت عام شہریوں کو ہلاک کیا اور ان میں سے بہت ساروں انسانی شیلڈ کے طور پر استعمال کیا جو کہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتاہے۔ گزشتہ برس یکم فروری کو میانمر کی فوج اس وقت کی سربراہ آنگ سان سوچی کو اقتدار سے بے دخل کر کے انہیں گرفتار کر لیا تھا اوراقتدار پر قابض ہوگئے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیم فورٹی فائی رائٹس نے منگل کو شائع کرداہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ ملٹری جنتا نے کرینائی ریاست میں شدید حملے کیے اور عام شہریوں پر وحشیانہ بمباری کے ساتھ ساتھ بھارتی اسلحے کا کھلے عام استعمال کیا جب کہ مئی 2021 سے جنوری 2022 کے دوران فضائی حملے بھی کیے جن میں 61 کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
کایا ریاست کے نام سے جانے جانے والے ایک علاقے میں فوجی شب خون کے بعد فوج اور مخالف مسلح گروہوں میں سخت جنگ ہوئی۔ فورٹی فائی رائٹس کی یہ رپورٹ 20 لوگوں کے انٹرویو پر مشتمل ہے جو کہ اس جنگ میں بچ گئے اور اس کے عینی شاہد ہیں۔ 18 سالہ ایک طالب علم موئی بائی جو کہ کرینی شان بارڈر کے قریب رہتے ہیں نے بتایا ہ ان کے چچا اور دو دویگر آدمیوں نے جون کے اوائل میں 2021 میں فوج نے گرفتار کر لیا تھا۔ جس کے بعد انہں پیپلز ڈیفنس فورسز کے خلاف بطور انسانی ڈھال کے استعمال کیا گیا۔ یاد رہے کہ پیپلز ڈیفنس فورس ایک عرصے سے حکومت کے خلاف برسرپیکار ہے۔
ایک شخص نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر نام نہ بتانے کی شرط پر فورٹی فائی رائٹس کو بتایا کہ فوجی ان کے کندھوں پر بندوقیں رکھ کر خود پیچھے رہ کر پیپلز ڈیفنس فورس کونشانہ بناتے۔ نامعلوم شخص نے مزید بتایا کہ انہیں بند کر رکھا جاتا تھا اور آنکھوں پر بھی پٹی باند دی جاتی تھی۔ ہمیں مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتاتھا۔ وہ ہمارے جسموں اور ہمارے سروں کو بندوق کے دستوں سے نشانہ بناتے۔ اس رپورٹ کے مطابق فوج نے پناہ گاہوں، کیمپوں اور چرچوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں عام آدمی جاں بحق ہوئے۔ جنوری میں فوج نے ری کھی بو کے گاؤں مین ایک بے گھر افراد کے کیمپ پر بمباری کر رکے قریبا 3 افراد کو ہلاک کر دیا جن میں دو بچے بھی شامل تھے ۔
میانمر کی فوجی جنتا کے حملوں میں 170000 کے قریب سیولین صرف کارینی ریاست میں بے گھر ہوئے جب کہ کارینی سول سوسائٹی کے مطابق اس ریاست کی کل آبادی صرف تین لاکھ ہے یعنی ںصف سے بھی زیادہ افراد بے گھر ہوگئے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق مقامی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد فوجی بغاوت سے اب تک 441,500 تک پہنچ چکی ہے جن میں 91،900 کارینی ریاست میں بے گھر ہوئے ہیں جب کہ 56،200 پڑوسی علاقے جنوبی شان ریاست سے بے گھر ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ میں پروسو گاؤں میں گزشتہ برس کسرمس کے موقع پر قتل عام کا بھی ذکر ہے جہاں میانمر کی فوجی جنتا نے 40 کے قریب سویلین کو ہلاک کر دیا تھا جس میں بچے اور سیو دی چلڈرن کے ساتھ کام کرنے والے انسانی کارکنان بھی شامل تھے۔
میانمر میں ایک ڈاکٹر نے فورٹی فائی رائٹس کو بتایا کہ اس قتل عام میں ہلاک ہونے والے بہت سارے افراد کا پوسٹ مارٹم ممکن نہیں تھا کیونکہ وہ مکمل طور پر جل چکی تھیں تاہم انہوں اور دیگر ڈاکٹرز نے تقریبا 31 ایسے اجسام کی شناخت کی جن میں 15 سال سے کم عمر کی پانچ بچیوں کے مردہ اجسام بھی شامل تھے۔بعض کے منہ میں کپڑا ٹھونسا ہوا تھا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ ان کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر انہیں ہلاک کیا گیا ہے۔ تقریبا ہر مردہ جسم کی سر کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی اور جسم کی دیگر ہڈیوں میں سے چند ایک ہی سلامت تھی کیونکہ ان میں سے اکثریت کو جلا کر ہلاک کیا گیا تھا۔
فوجی قبضے کے بعد 11،787 افراد کو فوج کے خلاف بات کرنے پر گرفتار کیا گیا جن میں سے 8792 تاحال فوج نے قید کر رکھے ہیں۔ جب کہ 290 کے قریب افراد اس قید میں جاں ب حق ہوگئے جس کی بڑی وجہ تشدد کا بتایا جاتا ہے۔
بدھ، 16 فروری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post میانمر جنتا کے جنگی جرائم پر مہر ثبت: شفقنا خصوصہ appeared first on شفقنا اردو نیوز.