حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) تاجر و صنعتکار برادری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں ہوشربا اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اضافے کا نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد الطاف میمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر نظر ثانی کی ہدایت کے باوجود فنانس ڈویژن نے 12 روپے سے زیادہ کا اضافہ منظور کرکے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ وزیراعظم کے پاکستان کو مدینے جیسی فلاحی ریاست بنانے اور غریب کا احساس کرنے والے خواب کو ان کی اپنی حکومت اور وفاقی ادارے چکنا چور کر رہے ہیں،پیٹرول نرخ میں اضافے کے ساتھ ہی گرانفروش بھی سرگرم ہوگئے ہیں اور ہر شے کی قیمتیں بڑھا دی ہیں،جس سے مہنگائی کاایک نیاسونامی جنم رہاہے اور اب اس کو قابو کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ صدر
چیمبر نے کہا کہ فوریکس یو ایس آئل کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی روپے میں ایک بیرل پیٹرول 16450 روپے ہے جو 104 روپے فی لیٹر حکومت پاکستان کو مل رہا ہے لیکن عوام اور تاجروں کو 160 روپے فی لیٹر دستیاب ہے جو کہ ایک کھلا ثبوت ہے کہ حکومت نے بلاجواز پیٹرول کے نرخ میں اضافہ کیا ہے۔ الطاف میمن نے وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزیر پیٹرولیم سے مطالبہ کیا ہے کہ تاجروں، صنعتکاروں اور عوام پر رحم کیا جائے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اِضافے کو فوری واپس لیا جائے ۔قبل ازیںحیدرآباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد فیضان الٰہی، سینئر نائب صدر محمد عارف، نائب صدر دانش شفیق قریشی نے مشترکہ بیان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تاجر و صنعتکا ر برادری پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو مسترد کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن فو ری طور پر واپس لیا جائے۔