کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ نیشنل سیکورٹی کونسل کا اجلاس بلایا جائے اور کالی بھڑوں کو بے نقاب کیا جائے، اطہر متین کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ شہر میں امن وامان قائم کرنے کے لیے حکمرانوں اور ان کی فیملی سے پروٹوکول واپس لے کر عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے،کراچی میں 37 ہزار پولیس اہلکار اور 73 ہزار پرائیوٹ رجسٹرڈ گارڈ موجود ہیں ان میں سے اکثر سرکاری عہدیداران اور ان کی فیملی کی حفاظت پرمامور ہیں،رواں سال صرف ڈیڑھ ماہ میں 11ہزار لوٹ مار کی وارداتیں اور مزاحمت پر 13شہریوں کو قتل کردیاگیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ڈی جی رینجرز حقائق کو قوم کے سامنے لائیں اور بتائیں کہ کتنے اختیارات ان کے پاس ہیں، ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جاتا؟نیشنل ایکشن پلان کے مطابق کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کو صحت،تعلیم، ٹرانسپورٹ سمیت امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا بھی شامل تھا لیکن اب تک اس پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟،عوام کے ٹیکسوں کے پیسے عوام پر کیوں خرچ نہیں کیے جاتے؟
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کراچی کے عوام کو تحفظ فراہم نہیں کرے گی تو کراچی کے عوام کو خود اپنے دفاع کے لیے نکلیں گے،نیشنل ایکشن پلان میں روزگار اور تحفظ فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے،کراچی کے عوام شہر میں امن وامان قائم کرنے کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد میں شامل ہوجائیں۔