ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

شرپسند ہندو نے حجابی طالبات کی ویڈیو بنا کر وشواپریشد کو بھیج دی، غنڈوں کی اسکول آکر بدمعاشی

گجرات میں حجاب پہن کر امتحان کیلیے آنے والی طالبات کی ویڈیو بنا کر کسی نے ہندو انتہا پسند تنظیم کو بھیج دی، اس کے بعد وی ایچ پی کے کارکنان اسکول پہنچے اور پرنسپل کے کمرے میں پہنچ کر ہنگامہ کرنا شروع کر دیا،پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 15 کارکنوں کو گرفتار کرلیا.

گجرات کے شہر سورت کے ایک اسکول میں باحجاب مسلم طالبات کے خلاف سخت گیر ہندو تنظیم وی ایچ پی (وشو ہندو پریشد) نے احتجاج کیا۔ پولیس نے تنازعہ کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے ہندو تنظیم کے 15 کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے ارد گرد کے علاقوں میں گشت بڑھا دیا ہے تاکہ ماحول خراب نہ ہو۔

معاملہ پی پی ساوانی اسکول میں پیش آیا۔ یہاں منگل کے روز چار پانچ مسلم طالبات حجاب پہن کر امتحان دینے پہنچی تھیں۔ ان کی ویڈیو بنا کر کچھ طلبا نے اسے وی ایچ پی کو بھیج دی۔ کچھ دیر بعد وی ایچ پی کے غنڈے اسکول پہنچے اور ہنگامہ شروع کر دیا۔ مشتعل ہجوم سیدھا پرنسپل کے دفتر پہنچ گیا جس کے بعد اسکول میں تنازع کھڑا ہو گیا۔تاہم کچھ ہی دیر میں پولٰیس وہاں پہنچ گئی اور وی ایچ پی کے 15 کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

اسکول پہنچے وشو ہندو پریشد کے لیڈر نیلیش اکبری نے کہا کہ گجرات کو شاہین باغ بنانے کی سازش چل رہی ہے۔ ہم نے پرنسپل سے پوچھا ہے کہ اسکول میں ڈریس کوڈ کے اصول پر عمل کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟

خیال رہے کہ کرناٹک میں حجاب کے حوالے سے شروع ہونے والے تنازع کے بعد سے ہندو انتہا پسندوں نے شہر شہر گائوں گائوں بدمعاشیاں شروع کررکھی ہیں اور حجاب پہننے والوں کو بہانے بہانے سے تنگ کیا جارہا ہے جبکہ گزشتہ روز ایک سرکاری بنک میں پیسے نکلوانے کے لیے آنے والی حجابی خاتون کو بھی شدت پسندوں نے پیسے ادائیگی سے روک دیا جبکہ عدالت میں درخواست گزار طالبہ ھاجرہ شفا کے بھائی کو ڈیڑھ سو غنڈوں نے مارا پیٹا اور انکے املاک کو نقصان پہنچایا.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں