لاہور: ممتاز تجزیہ کار، مبصر،کالم نگار، ہیومن رائٹس کمیشن کے سابق چیئرمین اور شعبہ صحافت کے معروف استاد پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن انتقال کرگئے ،ان کی عمر 85 سال تھی۔خاندنی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مہدی حسن کچھ عرصے سے علیل تھے۔
مرحوم پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات سے تقریبا 30 سال تک وابستہ رہے۔ مرحوم نے یونیورسٹی آف لاہور میں استاد کی حیثیت کے فرائض سرانجام دیے اور اس کے علاوہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے ڈین بھی رہے۔پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن نے پہلا کالم اپنے وقت کے معروف اخبار امروز میں لکھا اور اس کے بعد ملک کے تمام ممتاز اخبارات و جرائد میں ان کے کالم شائع ہوئے۔انہوں نے 1961 سے 1967 تک پاکستان پریس انٹرنیشنل( پی پی آئی) میں بحیثیت رپورٹر اور نیوز بیورو چیف کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دیے۔ وہ پانچ مرتبہ پاکستان فیڈریشن آف یونین آف جرنلسٹ(پی ایف یو جی) میں مختلف عہدوںپہ بھی رہے۔
مرحوم بائیں بازو کے دانشور اور تاریخ دان بھی تھے، وہ تاریخ، صحافت اور سیاسی جماعتوں سے متعلق کئی کتابوں کے مصنف ہیں، ان کی کتابیں سیاسی تاریخ کے حوالیسے بھی نمایاں حیثیت رکھتی ہیں، پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن کو حکومت کی جانب سے خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر رحمن ملک اور ملک کے معروف دانشور اور صحافی ڈاکٹر مہدی حسن کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت کے لیے دعا کی ہے۔منصورہ سے جاری ایک تعزیتی بیان میں سراج الحق سمیت جماعت اسلامی کے نائب امرا لیاقت بلوچ، ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، اسد اللہ بھٹو، راشد نسیم،میاں محمد اسلم، سیکرٹری جنرل امیر العظیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف و دیگر قائدین نے مرحومین کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے۔